فہرست مضامین
- آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی موجودہ نوعیت اور اہمیت
- بجلی کے ٹیرف میں اضافے کی ناگزیر وجوہات
- گردشی قرضہ: معیشت کے لیے ایک سنگین چیلنج
- نیپرا کا کردار اور سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹ
- توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات کا تقاضا
- سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی اور نئے تنازعات
- ایف بی آر کے محصولات اور ٹیکسوں کا بوجھ
- عوام پر مہنگائی کے اثرات اور مستقبل کا منظرنامہ
آئی ایم ایف (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ) اور حکومت پاکستان کے درمیان جاری مذاکرات اس وقت ملکی معیشت کے لیے انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ ان مذاکرات کا بنیادی محور توانائی کے شعبے میں درپیش بحران، بجلی کے نرخوں میں ممکنہ اضافہ اور وہ ساختی اصلاحات ہیں جو طویل عرصے سے التوا کا شکار تھیں۔ پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کی بحالی اور تسلسل ناگزیر ہو چکا ہے، لیکن اس کے بدلے میں کیے جانے والے مطالبات عام آدمی اور کاروباری طبقے کے لیے سخت آزمائش کا باعث بن رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں، جہاں مہنگائی کی شرح پہلے ہی ریکارڈ سطح پر ہے، بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا مطالبہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہر پاکستانی کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ یہ مضمون ان تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے جو ان مذاکرات کا حصہ ہیں اور مستقبل میں پاکستان کے انرجی سیکٹر کی سمت کا تعین کریں گے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی موجودہ نوعیت اور اہمیت
آئی ایم ایف کا موجودہ مشن پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے کی کارکردگی اور مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے حوالے سے سخت شرائط پر بات چیت کر رہا ہے۔ فنڈ کے حکام کا ماننا ہے کہ پاکستان میں بجلی اور گیس کی قیمتیں ان کی اصل لاگت سے کم ہیں، جس کی وجہ سے حکومت کو بھاری سبسڈیز دینا پڑتی ہیں۔ یہ سبسڈیز بجٹ خسارے کا باعث بنتی ہیں اور ملکی قرضوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ لہٰذا، آئی ایم ایف نے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافہ کیا جائے تاکہ لاگت پوری ہو سکے اور حکومتی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ ان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت پاکستان کس حد تک سیاسی قیمت چکانے اور عوامی ردعمل کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔
بجلی کے ٹیرف میں اضافے کی ناگزیر وجوہات
حکومت پاکستان کے لیے بجلی کے ٹیرف میں اضافہ اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ مجبوری بن چکا ہے۔ اس کی کئی بنیادی وجوہات ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے بڑی وجہ بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں (آئی پی پیز) کو کی جانے والی ادائیگیاں ہیں، جو ڈالر کی قدر میں اضافے کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں۔ چونکہ پاکستان میں زیادہ تر بجلی درآمدی ایندھن (تیل، گیس، کوئلہ) سے پیدا ہوتی ہے، اس لیے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست بجلی کی پیداواری لاگت کو متاثر کرتا ہے۔
مزید برآں، تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کی کارکردگی میں بہتری نہ ہونے کی وجہ سے ریکوری کا نظام کمزور ہے۔ جو بجلی پیدا کی جاتی ہے، اس کی مکمل وصولی نہیں ہو پاتی، اور یہ خسارہ پورا کرنے کے لیے یا تو حکومت کو سبسڈی دینی پڑتی ہے یا پھر ٹیرف بڑھا کر بوجھ شریف شہریوں پر ڈالنا پڑتا ہے۔ آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ ‘کاسٹ ریکوری’ کا ماڈل مکمل طور پر نافذ کیا جائے، یعنی بجلی جس قیمت پر پیدا ہو، اسی قیمت پر فروخت کی جائے۔
| تفصیلات | موجودہ صورتحال / تخمینہ | آئی ایم ایف کا مطالبہ |
|---|---|---|
| بنیادی ٹیرف میں اضافہ | مرحلہ وار اضافے کی تجویز | فوری اور یکمشت اضافہ (تقریباً 5 سے 7 روپے فی یونٹ) |
| گردشی قرضہ | 2.6 ٹریلین روپے سے زائد | مؤثر کمی کا پلان اور مزید اضافے پر روک |
| سبسڈیز | برآمدی صنعتوں اور کسانوں کے لیے جزوی ریلیف | غیر ضروری سبسڈیز کا مکمل خاتمہ |
| ٹیکس وصولی | بجلی کے بلوں میں مختلف ٹیکس شامل | محصولات بڑھانے کے لیے مزید اقدامات |
گردشی قرضہ: معیشت کے لیے ایک سنگین چیلنج
توانائی کے شعبے کا سب سے خوفناک پہلو ‘گردشی قرضہ’ (Circular Debt) ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو حکومت نے بجلی گھروں کو ادا کرنی ہے لیکن فنڈز کی کمی کی وجہ سے ادا نہیں کر پا رہی۔ جب صارفین بل ادا نہیں کرتے، یا حکومت سبسڈی کی رقم بروقت جاری نہیں کرتی، تو یہ قرضہ بڑھتا جاتا ہے۔ اس وقت یہ قرضہ کھربوں روپے تک پہنچ چکا ہے اور ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
آئی ایم ایف نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک گردشی قرضے کو قابو میں نہیں لایا جائے گا، پاکستان کا انرجی سیکٹر اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت کو سخت فیصلے کرنے ہوں گے، جن میں بجلی چوری کی روک تھام اور بلوں کی سو فیصد وصولی یقینی بنانا شامل ہے۔ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں بجلی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
نیپرا کا کردار اور سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹ
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) پاکستان میں بجلی کی قیمتوں کے تعین کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت نیپرا کو خود مختاری دی گئی ہے کہ وہ سیاسی دباؤ کے بغیر قیمتوں کا تعین کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ‘ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ’ اور ‘سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ’ خودکار طریقے سے بلوں میں شامل ہو جاتی ہیں۔
نیپرا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ فوری طور پر صارفین کو منتقل کیا جائے۔ اگرچہ یہ معاشی اصولوں کے مطابق درست ہے، لیکن صارفین کے لیے یہ عمل شدید ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے کیونکہ انہیں ہر مہینے بلوں میں غیر متوقع اضافے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مذاکرات میں اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ نیپرا کے فیصلوں پر عملدرآمد میں حکومت کی جانب سے کوئی تاخیر نہ کی جائے۔
سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا اثر
سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس بنیادی طور پر اس فرق کو ختم کرنے کے لیے ہوتی ہیں جو پیشن گوئی اور اصل لاگت کے درمیان رہ جاتا ہے۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ یہ ایڈجسٹمنٹس بروقت ہوں تاکہ گردشی قرضے میں مزید اضافہ نہ ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ صارفین کو سال میں کئی بار قیمتوں میں اضافے کے جھٹکے برداشت کرنے ہوں گے۔
توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات کا تقاضا
صرف قیمتیں بڑھانا مسئلے کا حل نہیں ہے، اور یہ بات آئی ایم ایف بھی اچھی طرح سمجھتا ہے۔ اسی لیے مذاکرات کا ایک بڑا حصہ ‘اصلاحات’ (Reforms) پر مبنی ہے۔ ان اصلاحات میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کی نجکاری یا انہیں صوبوں کے حوالے کرنا سرفہرست ہے۔ سرکاری تحویل میں چلنے والی یہ کمپنیاں ہر سال اربوں روپے کا خسارہ کرتی ہیں، جس کا بوجھ ٹیکس دہندگان کو اٹھانا پڑتا ہے۔
مزید برآں، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نظام میں فنی خرابیوں کو دور کرنا بھی ان اصلاحات کا حصہ ہے۔ فرسودہ تاروں اور ٹرانسفارمرز کی وجہ سے بجلی کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے، جسے ‘لائن لاسز’ کہا جاتا ہے۔ ان لاسز کو کم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ میٹرنگ کا نفاذ ضروری ہے۔
سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی اور نئے تنازعات
حالیہ دنوں میں سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی کے حوالے سے بہت سے خدشات نے جنم لیا ہے۔ چونکہ بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے عوام اور صنعتوں نے تیزی سے شمسی توانائی (Solar Energy) کا رخ کیا ہے، اس سے گرڈ سے بجلی کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔ حکومت اور آئی ایم ایف کو خدشہ ہے کہ اگر زیادہ صارفین سولر پر منتقل ہو گئے، تو کیپیسٹی پیمنٹس (Capacity Payments) کا بوجھ ان صارفین پر بڑھ جائے گا جو گرڈ پر موجود ہیں۔
اس تناظر میں نیٹ میٹرنگ کے ریٹس کم کرنے یا ‘گراس میٹرنگ’ کی طرف جانے کی باتیں گردش کر رہی ہیں۔ اگرچہ آئی ایم ایف براہ راست سولر کو روکنے کا نہیں کہہ رہا، لیکن وہ یہ چاہتا ہے کہ گرڈ کا مالیاتی توازن برقرار رہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر پالیسی میں کوئی بھی منفی تبدیلی قابل تجدید توانائی کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
ایف بی آر کے محصولات اور ٹیکسوں کا بوجھ
توانائی کے شعبے کا بحران براہ راست فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس اہداف سے بھی جڑا ہوا ہے۔ بجلی کے بل اب صرف توانائی کی قیمت نہیں رہے، بلکہ یہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکے ہیں۔ جنرل سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، اور دیگر لیویز بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کیے جاتے ہیں۔
آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ ٹیکسوں کا دائرہ کار کیسے بڑھایا جائے۔ حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ بجلی کے شعبے سے حاصل ہونے والے ریونیو میں اضافہ کرے، جس کا لامحالہ نتیجہ عوام پر مزید مالی بوجھ کی صورت میں نکلے گا۔
عوام پر مہنگائی کے اثرات اور مستقبل کا منظرنامہ
عام آدمی کے لیے یہ مذاکرات اور تکنیکی اصطلاحات زیادہ معنی نہیں رکھتیں، ان کے لیے اصل مسئلہ مہنگائی ہے۔ بجلی مہنگی ہونے سے نہ صرف گھریلو بجٹ متاثر ہوتا ہے بلکہ ہر چھوٹی بڑی چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ فیکٹریوں کی پیداواری لاگت بڑھنے سے اشیائے خوردونوش اور ضروریات زندگی مہنگی ہو جاتی ہیں۔
مستقبل قریب میں کسی بڑے ریلیف کی امید کم دکھائی دیتی ہے۔ حکومت کے لیے آئی ایم ایف پروگرام میں رہنا ضروری ہے تاکہ ملک ڈیفالٹ سے بچ سکے، لیکن اس کی قیمت عوام کو چکانی پڑ رہی ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ حکومت کو اشرافیہ کی مراعات ختم کر کے اور سرکاری اخراجات میں کمی کر کے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مزید تفصیلات اور عالمی تناظر کے لیے، آپ ورلڈ بینک کی پاکستان پر رپورٹ دیکھ سکتے ہیں جو معاشی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان توانائی کے شعبے پر ہونے والے یہ مذاکرات ملکی معیشت کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ اگر حکومت اصلاحات نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو طویل مدت میں شاید بہتری آئے، لیکن قلیل مدت میں عوام کو مزید کڑوی گولیاں نگلنی ہوں گی۔


