spot_img

مقبول خبریں

جمع

سوکیش چندر شیکھر کا جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ کا ہیلی کاپٹر تحفہ: منی لانڈرنگ کیس کا نیا موڑ

سوکیش چندر شیکھر نے ویلنٹائن ڈے پر جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ مالیت کا ہیلی کاپٹر تحفہ میں دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ جانئے منی لانڈرنگ کیس اور ای ڈی کی تحقیقات کی مکمل تفصیلات اس خصوصی رپورٹ میں۔

5G سپیکٹرم نیلامی: پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب اور پی ٹی اے کا انفارمیشن میمورنڈم

5G سپیکٹرم نیلامی اور انفارمیشن میمورنڈم کا اجراء پاکستان میں ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز ہے۔ پی ٹی اے اور وزارت آئی ٹی کی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل کی تفصیلی رپورٹ۔

آئی ایم ایف اور پاکستان: بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور توانائی اصلاحات پر اہم مذاکرات

آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں اضافے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر تفصیلی تجزیہ۔ گردشی قرضے اور عوامی ریلیف کا احاطہ۔

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی وائرل ویڈیو: میرب علی کا ردعمل اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی پرانی ویڈیو وائرل ہونے پر میرب علی کی پراسرار انسٹاگرام اسٹوری نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ تفصیلات اور تجزیہ جانئے۔

ایران جوہری مذاکرات: جنیوا میں جاری کشیدگی، امریکہ اور تہران کا نیا تنازعہ

ایران جوہری مذاکرات جنیوا میں فیصلہ کن موڑ پر۔ امریکہ اور تہران کے درمیان ایٹمی پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پر تفصیلی تجزیہ پڑھیے۔

نادرا شناختی کارڈ اسٹیٹس چیک کرنے کا مکمل آن لائن طریقہ اور تفصیلات

نادرا شناختی کارڈ اسٹیٹس جاننا موجودہ دور میں ہر پاکستانی شہری کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ پاکستان میں قومی شناخت اور شہریت کا سب سے مستند دستاویزی ثبوت کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) ہے۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کی سہولت کے لیے شناختی کارڈ کے حصول اور اس کی ٹریکنگ کے نظام کو انتہائی جدید اور ڈیجیٹل خطوط پر استوار کیا ہے۔ چاہے آپ نے نئے کارڈ کے لیے درخواست دی ہو، پرانے کارڈ کی تجدید کروا رہے ہوں، یا گمشدہ کارڈ کی دوبارہ پرنٹنگ کے خواہشمند ہوں، اپنی درخواست کی موجودہ حیثیت سے باخبر رہنا انتہائی ضروری ہے۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم نادرا کے نظام، ٹریکنگ کے مختلف طریقوں، اور شہریوں کو درپیش مسائل کے حل پر سیر حاصل گفتگو کریں گے۔

نادرا شناختی کارڈ کی قومی اہمیت اور جدید ڈیجیٹل نظام

پاکستان میں نادرا کا قیام ایک انقلابی قدم تھا جس نے شہریوں کے ریکارڈ کو محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ شناختی کارڈ صرف ایک پلاسٹک کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ یہ ریاست کی جانب سے اپنے شہریوں کو دی جانے والی ضمانت اور پہچان ہے۔ بینک اکاؤنٹ کھلوانے سے لے کر پاسپورٹ کے حصول تک، اور جائیداد کی خرید و فروخت سے لے کر ووٹ ڈالنے تک، زندگی کا کوئی بھی اہم کام شناختی کارڈ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ نادرا نے گزشتہ چند سالوں میں اپنے ڈیٹا بیس کو سنٹرلائزڈ کیا ہے، جس کی بدولت اب شہری ملک کے کسی بھی کونے سے اپنی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ نادرا کا موجودہ انفراسٹرکچر دنیا کے بہترین ڈیٹا بیس سسٹمز میں شمار ہوتا ہے، جو بائیو میٹرک تصدیق اور چہرے کی شناخت (Facial Recognition) جیسی جدید ٹیکنالوجیز سے لیس ہے۔

نادرا شناختی کارڈ اسٹیٹس چیک کرنے کے مرکزی طریقے

نادرا نے شہریوں کی آسانی کے لیے شناختی کارڈ کی درخواست کا اسٹیٹس چیک کرنے کے لیے متعدد پلیٹ فارمز مہیا کیے ہیں۔ پہلے شہریوں کو بار بار نادرا کے دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے، لیکن اب یہ معلومات گھر بیٹھے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ بنیادی طور پر تین بڑے طریقے ہیں جن کے ذریعے آپ اپنی درخواست کی موجودہ صورتحال جان سکتے ہیں: ایس ایم ایس سروس، آن لائن ویب پورٹل، اور موبائل ایپلی کیشن۔ ان تمام طریقوں کا مقصد شہریوں کا وقت بچانا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف رش میں کمی آئی ہے بلکہ دفتری اوقات کے بعد بھی معلومات کا حصول ممکن ہو گیا ہے۔

8300 ایس ایم ایس سروس: فوری تصدیق کا آسان ذریعہ

نادرا کی 8300 سروس عوام میں سب سے زیادہ مقبول ہے کیونکہ اس کے لیے انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ سروس خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جو سمارٹ فون یا انٹرنیٹ تک رسائی نہیں رکھتے۔ اس کا طریقہ کار انتہائی سادہ ہے۔ درخواست گزار کو اپنا ٹوکن نمبر (جو نادرا سینٹر سے درخواست جمع کرواتے وقت ملتا ہے) اپنے موبائل کے میسج آپشن میں لکھنا ہوتا ہے اور اسے 8300 پر بھیجنا ہوتا ہے۔ چند ہی لمحوں میں نادرا کے سسٹم کی جانب سے ایک جوابی ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے جس میں درخواست کی موجودہ پوزیشن بتائی جاتی ہے۔ مثلاً کیا کارڈ پرنٹ ہو چکا ہے، کیا وہ ڈلیوری کے لیے بھیج دیا گیا ہے، یا اگر کوئی اعتراض (Objection) لگا ہے تو اس کی تفصیل بھی بتا دی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ اس سروس کے معمولی چارجز لاگو ہوتے ہیں، جو کہ موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔

پاک آئیڈینٹٹی پورٹل: گھر بیٹھے شناختی کارڈ کی ٹریکنگ

انٹرنیٹ صارفین کے لیے نادرا نے ‘پاک آئیڈینٹٹی’ (Pak Identity) کے نام سے ایک ویب پورٹل متعارف کرایا ہے۔ یہ پورٹل ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جنہوں نے آن لائن درخواست جمع کروائی ہے۔ اس پورٹل پر لاگ ان ہو کر آپ اپنی درخواست کا ریئل ٹائم اسٹیٹس دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں نہ صرف اسٹیٹس نظر آتا ہے بلکہ اگر درخواست میں کسی قسم کی دستاویزات کی کمی ہو تو اسے بھی آن لائن اپ لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس نظام نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مشکلات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے کیونکہ وہ اب سفارت خانے جائے بغیر اپنے کارڈز کے معاملات کو مانیٹر کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، یہ پورٹل 24 گھنٹے کام کرتا ہے، جس سے دفتری اوقات کی پابندی کا مسئلہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ مزید خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے آپ ہماری کیٹیگری سائٹ میپ وزٹ کر سکتے ہیں۔

سمارٹ شناختی کارڈ بمقابلہ عام کارڈ: ایک تقابلی جائزہ

نادرا اس وقت شہریوں کو دو طرح کے کارڈ جاری کر رہا ہے: ایک پرانا سادہ شناختی کارڈ اور دوسرا جدید سمارٹ کارڈ (Smart NIC)۔ سمارٹ کارڈ میں ایک الیکٹرانک چپ نصب ہوتی ہے جس میں شہری کا بائیو میٹرک ڈیٹا اور دیگر اہم معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔ سیکیورٹی کے اعتبار سے سمارٹ کارڈ انتہائی محفوظ ہے اور اس کی نقل بنانا تقریباً ناممکن ہے۔ ذیل میں دی گئی جدول میں دونوں کارڈز کا موازنہ کیا گیا ہے:

خصوصیت عام شناختی کارڈ (Simple NIC) سمارٹ شناختی کارڈ (Smart NIC)
ٹیکنالوجی بار کوڈ سسٹم الیکٹرانک چپ (Chip-based)
سیکیورٹی لیول درمیانہ انتہائی ہائی (36 سیکیورٹی فیچرز)
بین الاقوامی سفر قبولیت محدود ہو سکتی ہے بین الاقوامی معیارات کے مطابق
لائف انشورنس شامل نہیں حادثاتی موت کی صورت میں انشورنس
ڈیٹا سٹوریج صرف بنیادی کوائف بائیو میٹرک اور خاندانی ریکارڈ

حکومت پاکستان اب شہریوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ وہ سمارٹ کارڈز پر منتقل ہو جائیں کیونکہ مستقبل میں بہت سی سرکاری سہولیات صرف چپ والے کارڈز سے منسلک کر دی جائیں گی۔

نادرا رجسٹریشن سینٹرز (NRC) میں ٹوکن سسٹم اور ٹریکنگ

اگر آپ آن لائن سسٹم استعمال نہیں کرنا چاہتے تو نادرا رجسٹریشن سینٹرز (NRC) میں جا کر بھی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ دفاتر میں ایک جدید ٹوکن سسٹم نصب ہے جو قطاروں کو منظم کرتا ہے۔ جب آپ درخواست جمع کرواتے ہیں تو آپ کو ایک رسید دی جاتی ہے جس پر ٹریکنگ آئی ڈی درج ہوتی ہے۔ اس آئی ڈی کے ذریعے آپ بعد میں ہیلپ لائن 7000 پر کال کر کے یا دوبارہ سینٹر جا کر معلومات لے سکتے ہیں۔ نادرا نے اب بڑے شہروں میں ‘میگا سینٹرز’ بھی قائم کیے ہیں جو 24 گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔ ان سینٹرز میں عملہ زیادہ ہوتا ہے اور کام کی رفتار بھی تیز ہوتی ہے۔ تاہم، رش سے بچنے کے لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ ‘نادرا رہبر’ ایپ کے ذریعے قریبی سینٹر میں رش کی صورتحال دیکھ کر جائیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نائیکوپ (NICOP) کی تفصیلات

نیشنل آئیڈینٹٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستانیز (NICOP) ان شہریوں کے لیے ہے جو روزگار یا رہائش کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم ہیں۔ نائیکوپ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کا حامل شخص ویزا کے بغیر پاکستان آ سکتا ہے۔ نائیکوپ بنوانے کے لیے پاسپورٹ کا ہونا لازمی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی نادرا کی ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں اور کارڈ ان کے غیر ملکی پتے پر ڈیلیور کر دیا جاتا ہے۔ نائیکوپ ہولڈرز کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو عام پاکستانی شہریوں کو حاصل ہیں، بشمول بینک اکاؤنٹ کھلوانا اور جائیداد خریدنا۔ نادرا کی حالیہ پالیسیوں کے تحت نائیکوپ کی فیس مختلف زونز (ممالک) کے حساب سے رکھی گئی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے نادرا کی آفیشل ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔

شناختی کارڈ کی تجدید اور کوائف میں ترمیم کا طریقہ کار

شناختی کارڈ کی معیاد ختم ہونے پر اس کی تجدید (Renewal) لازمی ہے۔ معیاد ختم ہونے کے بعد کارڈ قانونی طور پر موثر نہیں رہتا۔ تجدید کے لیے آپ کو پرانا کارڈ ساتھ لانا ہوتا ہے۔ اگر آپ کے کوائف (جیسے پتہ، ازدواجی حیثیت) میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو اس کے لیے دستاویزی ثبوت (جیسے نکاح نامہ یا بجلی کا بل) فراہم کرنا ضروری ہے۔ نام کی تبدیلی یا عمر کی درستی کے لیے عدالتی احکامات یا میٹرک کی سند درکار ہو سکتی ہے۔ نادرا نے اب ایک ایگزیکٹو سروس بھی شروع کی ہے جس میں زیادہ فیس ادا کر کے آپ چند دنوں میں کارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔ عام طور پر نارمل کارڈ 30 دن، ارجنٹ 15 دن اور ایگزیکٹو 7 دن میں بن جاتا ہے۔

نادرا کا بائیو میٹرک سسٹم اور سیکیورٹی فیچرز

نادرا کا موجودہ نظام مکمل طور پر بائیو میٹرک ڈیٹا پر انحصار کرتا ہے۔ اس میں دس انگلیوں کے نشانات، ڈیجیٹل تصویر اور دستخط شامل ہیں۔ یہ ڈیٹا قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کی مدد سے دہشت گردی اور دیگر جرائم کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔ سم کارڈز کے اجراء کو بھی بائیو میٹرک تصدیق سے مشروط کر دیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی سموں کا خاتمہ ہو سکے۔ نادرا کے ڈیٹا بیس کو ہیکنگ سے بچانے کے لیے ملٹی لیئر سیکیورٹی پروٹوکولز استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ سسٹم اتنا حساس ہے کہ اگر کوئی شخص ڈبل رجسٹریشن کروانے کی کوشش کرے تو سسٹم فوراً اس کی نشاندہی کر دیتا ہے۔ ہمارے پوسٹ سائٹ میپ پر آپ کو ٹیکنالوجی سے متعلق مزید مضامین مل سکتے ہیں۔

خاندانی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) اور بچوں کی رجسٹریشن

شناختی کارڈ کے علاوہ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) بھی ایک اہم دستاویز ہے جو پورے خاندان کے ریکارڈ کو ظاہر کرتی ہے۔ ویزا کے حصول اور جائیداد کی تقسیم کے معاملات میں ایف آر سی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ، 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ‘بے فارم’ (CRC) بنوانا ضروری ہے، جو ان کی پیدائش کا سرکاری ریکارڈ ہوتا ہے۔ بے فارم بنوانے کے لیے والدین کے پاس کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے۔ ایف آر سی اب نادرا کی ویب سائٹ سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے اور اس کی تصدیق ریئل ٹائم میں ہوتی ہے۔

عوامی مسائل اور درخواست مسترد ہونے کی وجوہات

اکثر اوقات شہریوں کو شکایت ہوتی ہے کہ ان کا کارڈ وقت پر نہیں ملا یا درخواست مسترد (Reject) ہو گئی ہے۔ اس کی چند عام وجوہات میں تصاویر کا غیر واضح ہونا، انگلیوں کے نشانات کا نہ ملنا، یا فراہم کردہ دستاویزات میں تضاد ہونا شامل ہے۔ اگر آپ کا کارڈ ‘ڈیفر’ (Defer) ہو جائے تو نادرا آپ کو وجہ بتاتا ہے اور اسے دور کرنے کے لیے وقت دیتا ہے۔ بعض اوقات دوہری شہریت یا مشکوک کوائف کی بنا پر بھی درخواست روکی جا سکتی ہے۔ ایسے معاملات میں متعلقہ زونل آفس سے رابطہ کرنا بہتر ہوتا ہے۔ نادرا کا شکایات سیل بھی فعال ہے جہاں آپ ہیلپ لائن یا سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے ہمارے پیج سائٹ میپ کو دیکھیں۔

مستقبل کے لائحہ عمل اور نادرا کی نئی پالیسیاں

نادرا اپنے نظام کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے۔ مستقبل قریب میں ڈیجیٹل آئی ڈی (Digital ID) کا تصور متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے بعد شاید فزیکل کارڈ کی ضرورت ہی نہ رہے۔ موبائل والٹ میں ڈیجیٹل شناخت محفوظ ہو گی جسے کیو آر کوڈ (QR Code) کے ذریعے اسکین کیا جا سکے گا۔ حکومت پاکستان کا مقصد ‘ڈیجیٹل پاکستان’ کے وژن کو عملی جامہ پہنانا ہے اور نادرا اس مشن میں ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے کوائف درست رکھیں اور کسی بھی تبدیلی کی صورت میں فوراً نادرا کو مطلع کریں تاکہ ریکارڈ اپ ڈیٹ رہے۔

spot_imgspot_img