فہرست مضامین
- مودی حکومت کا ہندوتوا نظریہ اور تعلیمی نظام
- آرٹیکل 370 کا خاتمہ: کشمیری تعلیم پر کاری ضرب
- بھارت بھر میں کشمیری طلباء کا عدم تحفظ
- اسکالرشپ اسکیموں میں کٹوتی اور رکاوٹیں
- ایک نظر: کشمیری طلباء پر تشدد اور امتیازی سلوک (ڈیٹا ٹیبل)
- کشمیری نوجوانوں میں ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل
- عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کردار
- نتیجہ: مستقبل کا لائحہ عمل
مودی کی انتہا پسند پالیسیاں نہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہیں بلکہ ان کے تباہ کن اثرات کشمیری نوجوانوں، خاص طور پر طلباء کے تعلیمی مستقبل اور سماجی تحفظ پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ 2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے اور بالخصوص 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے بعد، کشمیری طلباء کو ریاست اور بھارت بھر میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تعلیم، جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، آج کشمیریوں کے لیے ایک میدانِ جنگ بن چکی ہے۔ یہ مضمون ان پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے جنہوں نے کشمیری طلباء کو دیوار سے لگا دیا ہے۔
مودی حکومت کا ہندوتوا نظریہ اور تعلیمی نظام
بھارت میں مودی حکومت کا بنیادی ایجنڈا ہندوتوا کے نظریے کا فروغ ہے، جس کا براہ راست اثر تعلیمی اداروں پر پڑ رہا ہے۔ تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں سے لے کر یونیورسٹیوں کے ماحول کو فرقہ وارانہ بنانے تک، ہر سطح پر اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور کشمیریوں کے لیے گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ عالمی خبریں اس بات کی گواہ ہیں کہ کس طرح بھارتی تعلیمی اداروں، جیسے کہ جے این یو (JNU) اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، میں دائیں بازو کی تنظیموں کا اثر و رسوخ بڑھایا گیا ہے تاکہ کشمیری طلباء کی آواز کو دبایا جا سکے۔
ہندوتوا کے اس بڑھتے ہوئے اثر نے کشمیری طلباء کے لیے بھارت کی دیگر ریاستوں میں تعلیم حاصل کرنا ایک ڈراؤنا خواب بنا دیا ہے۔ انہیں اکثر ‘دہشت گرد’ یا ‘پاکستان نواز’ کہہ کر ہراساں کیا جاتا ہے، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی اور ذہنی سکون شدید متاثر ہوتا ہے۔
آرٹیکل 370 کا خاتمہ: کشمیری تعلیم پر کاری ضرب
5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35-A کی منسوخی نے کشمیر کے تعلیمی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ مہینوں تک جاری رہنے والے کرفیو اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے سکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند رہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، اس دوران کشمیری طلباء کا تعلیمی سال مکمل طور پر ضائع ہو گیا۔
انٹرنیٹ کی بندش اور آن لائن کلاسز کا فقدان
جب پوری دنیا کووڈ-19 کے دوران آن لائن تعلیم پر منتقل ہو رہی تھی، کشمیری طلباء 2G انٹرنیٹ کی سست رفتار پر گزارا کرنے پر مجبور تھے۔ مودی حکومت کی جانب سے تیز رفتار 4G انٹرنیٹ پر طویل پابندی نے کشمیری طلباء کو عالمی دنیا سے کاٹ دیا۔ ریسرچ اسکالرز اپنے مقالے جمع کروانے سے قاصر رہے، اور میڈیکل کے طلباء آن لائن لیکچرز میں شرکت نہ کر سکے۔ یہ ڈیجیٹل نسل کشی کی ایک ایسی شکل تھی جس نے کشمیری نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں کئی سال پیچھے دھکیل دیا۔
بھارت بھر میں کشمیری طلباء کا عدم تحفظ
بھارت کی مختلف ریاستوں میں زیرِ تعلیم ہزاروں کشمیری طلباء ہر وقت عدم تحفظ کے احساس میں رہتے ہیں۔ پلوامہ حملے کے بعد جس طرح ہجوم نے کشمیری طلباء کو نشانہ بنایا، وہ اس عدم تحفظ کی بدترین مثال ہے۔ دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیمیں، جیسے کہ اے بی وی پی (ABVP)، اکثر یونیورسٹی کیمپس میں کشمیری طلباء کو تشدد کا نشانہ بناتی ہیں اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔
تعلیمی اداروں میں تشدد اور ہراسانی کے واقعات
دہرادون، امبالہ، اور بنگلور جیسے شہروں میں کشمیری طلباء کو کرائے کے مکانوں سے بے دخل کرنے اور ہاسٹلز میں زدوکوب کرنے کے واقعات عام ہو چکے ہیں۔ کئی طلباء کو اپنی ڈگریاں ادھوری چھوڑ کر واپس کشمیر لوٹنا پڑا۔ یہ خوف کا ماحول مودی سرکار کی ان پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو کشمیریوں کو ‘مشکوک’ اور ‘غدار’ کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
کھیل اور قوم پرستی: غداری کے مقدمات
کھیل، جو قوموں کو جوڑنے کا ذریعہ ہونا چاہیے، بھارت میں کشمیری طلباء کے لیے مصیبت بن گیا ہے۔ 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی بھارت کے خلاف جیت پر خوشی کا اظہار کرنے والے کئی کشمیری طلباء پر غداری (Sedition) کے مقدمات درج کیے گئے۔ آگرہ میں زیرِ تعلیم انجینئرنگ کے طلباء کو جیل بھیج دیا گیا اور ان کا تعلیمی کیریئر تباہ کر دیا گیا۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ مودی حکومت کشمیری نوجوانوں کے ہر جذبے کو جرم قرار دینے پر تلی ہوئی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے پاکستان سے متعلق ہماری خبریں ملاحظہ کریں۔
اسکالرشپ اسکیموں میں کٹوتی اور رکاوٹیں
پرائم منسٹر سپیشل اسکالرشپ سکیم (PMSSS)، جس کا مقصد کشمیری طلباء کو بھارت کے اچھے اداروں میں تعلیم کے مواقع فراہم کرنا تھا، اب بدانتظامی اور فنڈز کی کٹوتی کا شکار ہے۔ بہت سے طلباء کو وقت پر فنڈز جاری نہیں کیے جاتے، جس کی وجہ سے کالج انتظامیہ انہیں امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتی۔ یہ معاشی دباؤ غریب کشمیری خاندانوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے، اور بہت سے ہونہار طلباء تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ایک نظر: کشمیری طلباء پر تشدد اور امتیازی سلوک (ڈیٹا ٹیبل)
درج ذیل جدول میں گزشتہ چند سالوں کے دوران مودی حکومت کے دور میں کشمیری طلباء کے ساتھ پیش آنے والے چند بڑے واقعات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے:
| سال | واقعہ کی نوعیت | مقام | اثرات / نتیجہ |
|---|---|---|---|
| 2019 | پلوامہ حملے کے بعد ہجوم کا تشدد | دہرادون، ہریانہ | سینکڑوں طلباء کی جبری بے دخلی، تعلیمی بائیکاٹ |
| 2020 | انٹرنیٹ بندش و لاک ڈاؤن | مقبوضہ کشمیر | آن لائن کلاسز سے محرومی، ریسرچ ورک میں رکاوٹ |
| 2021 | کرکٹ میچ پر غداری کے مقدمات | آگرہ (یو پی) | 3 طلباء گرفتار، کالج سے معطل، ڈگریاں منسوخ |
| 2022 | حجاب پر پابندی کا اثر | کرناٹک | مسلم اور کشمیری طالبات کو کلاس رومز میں داخلے سے روکا گیا |
| 2023 | یو اے پی اے (UAPA) کے تحت گرفتاریاں | دہلی، سری نگر | طلباء رہنماؤں اور سکالرز کی بلا جواز گرفتاریاں |
کشمیری نوجوانوں میں ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل
مسلسل خوف، غیر یقینی صورتحال اور تعلیمی نقصان نے کشمیری طلباء کی ذہنی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق، کشمیر میں نوجوانوں میں ڈپریشن، انزائٹی (Anxiety) اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ مودی حکومت کی سخت گیر پالیسیاں نوجوانوں کو مایوسی کی طرف دھکیل رہی ہیں، جو سماجی ڈھانچے کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کردار
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا بھارت میں اقلیتوں اور کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹس میں کشمیری طلباء پر ہونے والے کریک ڈاؤن کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تاہم، عملی طور پر مودی حکومت پر کوئی خاص دباؤ نہیں ڈالا گیا، جس کی وجہ سے یہ مظالم جاری ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس مزید تفصیلات فراہم کرتی ہیں۔
نتیجہ: مستقبل کا لائحہ عمل
مودی کی انتہا پسند پالیسیاں کشمیری طلباء کے تعلیمی مستقبل کو تاریک کر رہی ہیں اور انہیں ایک ایسے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ان کی سماجی اور نفسیاتی بقا خطرے میں ہے۔ اگر عالمی برادری نے فوری نوٹس نہ لیا تو یہ صورتحال نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے بلکہ ایک پوری نسل کو جہالت اور انتہا پسندی کی نذر کر سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں کو سیاست اور نفرت سے پاک کیا جائے اور کشمیری طلباء کو ان کے بنیادی انسانی اور تعلیمی حقوق فراہم کیے جائیں۔ مزید تجزیوں کے لیے ہماری ویب سائٹ کے ایڈیٹوریل سیکشن کا وزٹ کریں۔


