رمضان 2026 کی تاریخ پاکستان میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس مقدس مہینے کا انتظار کروڑوں مسلمان بے تابی سے کرتے ہیں۔ آج 15 فروری 2026 ہے، اور ملک بھر میں رمضان المبارک کی آمد کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ محکمہ موسمیات (PMD) اور خلائی تحقیق کے ادارے سپارکو (SUPARCO) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق، اس سال رمضان المبارک کا چاند 18 فروری کی شام کو نظر آنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ اگر چاند 18 فروری بروز بدھ کو نظر آ گیا تو پاکستان میں پہلا روزہ 19 فروری 2026 بروز جمعرات کو رکھا جائے گا۔
رمضان المبارک اسلامی کیلنڈر کا نواں اور سب سے مقدس مہینہ ہے، جس میں مسلمان طلوع فجر سے غروب آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال چاند کی رویت کا معاملہ انتہائی دلچسپی اور سنسنی کا باعث بنتا ہے۔ اس سال بھی عوام کی نظریں مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور محکمہ موسمیات کی پیشگوئیوں پر لگی ہوئی ہیں۔ ذیل میں ہم اس حوالے سے تفصیلی جائزہ لیں گے کہ سائنس کیا کہتی ہے اور مذہبی طور پر کیا توقعات ہیں۔
رمضان 2026 کی تاریخ اور محکمہ موسمیات کی پیشگوئی
پاکستان کے محکمہ موسمیات نے اپنی جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا ہے کہ رمضان المبارک 1447 ہجری کے چاند کی پیدائش 17 فروری 2026 کو شام 5 بج کر 01 منٹ (پاکستانی وقت) پر ہوگی۔ فلکیاتی اصولوں کے مطابق، چاند کی پیدائش کے بعد اسے انسانی آنکھ سے دیکھنے کے لیے کم از کم 16 سے 20 گھنٹے کی عمر درکار ہوتی ہے۔ 17 فروری کی شام کو چاند کی عمر اتنی کم ہوگی کہ اسے دیکھنا ناممکن ہوگا، لہذا 17 فروری کو چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
تاہم، اگلے روز یعنی 18 فروری 2026 کی شام کو سورج غروب ہوتے وقت چاند کی عمر 25 گھنٹے سے زائد ہو چکی ہوگی۔ یہ عمر چاند کو ننگی آنکھ سے دیکھنے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ محکمہ موسمیات کے کلائمیٹ ڈیٹا پروسیسنگ سینٹر کے مطابق، 18 فروری کو ملک کے بیشتر حصوں میں موسم صاف یا جزوی طور پر ابر آلود رہے گا، جس سے چاند کی رویت کے امکانات مزید روشن ہو جاتے ہیں۔ اس سائنسی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ 19 فروری کو پہلا روزہ ہونے کا امکان 99 فیصد ہے۔
چاند کی پیدائش اور تکنیکی تفصیلات
فلکیاتی ماہرین کے مطابق، نئے چاند کا "کنکشن" (Conjunction) اس وقت ہوتا ہے جب سورج، چاند اور زمین ایک سیدھ میں آ جاتے ہیں۔ 17 فروری کو یہ عمل مکمل ہو جائے گا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چاند کے افق پر موجود رہنے کا دورانیہ (Lag Time) بھی رویت کے لیے اہم ہوتا ہے۔ 18 فروری کی شام کو سورج غروب ہونے کے بعد چاند افق پر تقریباً 50 سے 60 منٹ تک موجود رہے گا، جو کہ اسے دیکھنے کے لیے کافی وقت ہے۔
عام طور پر اگر چاند غروب آفتاب کے بعد 40 منٹ سے کم وقت تک افق پر رہے تو اسے دیکھنا مشکل ہوتا ہے، لیکن اس بار یہ دورانیہ کافی زیادہ ہے، خاص طور پر ساحلی علاقوں جیسے کراچی اور گوادر میں، جہاں فضا میں نمی اور افق کی وضاحت چاند دیکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
سپارکو (SUPARCO) کی رپورٹ برائے رمضان 1447 ہجری
پاکستان کے خلائی تحقیقی ادارے سپارکو نے بھی محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کی تائید کی ہے۔ سپارکو کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جدید ترین سائنسی آلات اور سیٹلائٹ ڈیٹا اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ 18 فروری کی شام کو ہلال (Crescent) کی موٹائی اور چمک اتنی ہوگی کہ اسے ٹیلی سکوپ کے بغیر بھی دیکھا جا سکے گا۔
مزید خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے آپ ہمارے تازہ ترین مضامین کی فہرست دیکھ سکتے ہیں۔ سپارکو کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حتمی فیصلہ شرعی شہادتوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، لیکن سائنسی اعدادوشمار اس بار کسی ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑ رہے۔ یہ ڈیٹا وزارت مذہبی امور اور رویت ہلال کمیٹی کو بھی فراہم کر دیا گیا ہے تاکہ فیصلہ سازی میں آسانی ہو۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں چاند نظر آنے کے امکانات
پاکستان ایک وسیع ملک ہے جہاں جغرافیائی حالات مختلف ہیں۔ چاند نظر آنے کے امکانات ہر شہر میں تھوڑے مختلف ہو سکتے ہیں:
- کراچی: ساحلی شہر ہونے کی وجہ سے یہاں افق اکثر واضح ہوتا ہے۔ 18 فروری کو یہاں چاند نظر آنے کے "بہت زیادہ" امکانات ہیں۔
- لاہور: اگر فضائی آلودگی یا سموگ کا مسئلہ نہ ہوا تو لاہور میں بھی چاند باآسانی دیکھا جا سکے گا۔
- اسلام آباد/راولپنڈی: شمالی پنجاب میں مطلع جزوی ابر آلود ہو سکتا ہے، لیکن بادلوں کے بیچ سے چاند نظر آنے کی توقع ہے۔
- پشاور: خیبر پختونخوا میں اکثر رویت ہلال کی شہادتیں موصول ہوتی ہیں۔ یہاں بھی 18 فروری کو رویت کا قوی امکان ہے۔
- کوئٹہ: بلوچستان کی خشک فضا چاند دیکھنے کے لیے بہترین ہوتی ہے۔ یہاں سب سے واضح رویت کی توقع ہے۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس
رویت ہلال کا حتمی اور شرعی فیصلہ کرنے کا اختیار "مرکزی رویت ہلال کمیٹی" کے پاس ہے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت 18 فروری 2026 (بمطابق 29 شعبان 1447 ھ) کو متوقع ہے۔ یہ اجلاس اسلام آباد یا پشاور میں منعقد ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زونل کمیٹیاں لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں اپنے اجلاس منعقد کریں گی اور شہادتیں جمع کر کے مرکز کو بھیجیں گی۔
شرعی اصولوں کے مطابق، اگر ملک کے کسی بھی حصے سے قابل اعتماد شہادت موصول ہو جائے تو پورے ملک میں رمضان کا اعلان کر دیا جائے گا۔ ماضی کی طرح اس بار بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ پوری قوم ایک ہی دن روزہ رکھے۔ اگر آپ مزید زمرہ جات دیکھنا چاہتے ہیں تو ہماری کیٹیگریز کی فہرست ملاحظہ کریں۔
پاکستان اور سعودی عرب میں ایک ساتھ رمضان کا امکان
عموماً سعودی عرب میں پاکستان سے ایک دن پہلے رمضان شروع ہوتا ہے۔ تاہم، اس سال فلکیاتی ڈیٹا ایک دلچسپ صورتحال کی نشاندہی کر رہا ہے۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں 17 فروری کو چاند نظر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ اس وقت چاند کی پیدائش کو بہت کم وقت گزرا ہو گا۔ اس کا مطلب ہے کہ سعودی عرب میں ممکنہ طور پر 30 شعبان مکمل کیے جائیں گے اور وہاں بھی پہلا روزہ 19 فروری کو ہو سکتا ہے۔
اگر ایسا ہوا تو یہ ایک نادر موقع ہوگا جب پاکستان اور سعودی عرب میں رمضان المبارک کا آغاز ایک ہی دن یعنی 19 فروری 2026 کو ہوگا۔ یہ امت مسلمہ کے لیے یکجہتی کا ایک خوبصورت پیغام بھی ہوگا۔
رمضان 2026: سحری و افطار کے متوقع اوقات
فروری کے مہینے میں موسم سرما کا اختتام اور بہار کی آمد ہو رہی ہوتی ہے۔ اس لیے روزے کا دورانیہ نہ تو بہت طویل ہوگا اور نہ ہی بہت مختصر۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں پہلے روزے کا دورانیہ تقریباً 12 سے 13 گھنٹے کے درمیان ہونے کی توقع ہے۔
جوں جوں مہینہ آگے بڑھے گا اور مارچ کا آغاز ہوگا، دن کا دورانیہ آہستہ آہستہ بڑھتا جائے گا۔ آخری عشرے میں گرمی کی شدت میں معمولی اضافہ بھی متوقع ہے، لیکن مجموعی طور پر موسم خوشگوار رہنے کی نوید ہے۔ یہ روزہ داروں کے لیے اللہ کی خاص رحمت ہے۔
موسم کی صورتحال اور رویت پر اثرات
محکمہ موسمیات کے مطابق 18 فروری کو مغربی ہوائوں کا ایک سلسلہ پاکستان میں داخل ہو سکتا ہے جس سے بالائی علاقوں میں ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔ تاہم، سندھ اور جنوبی پنجاب میں موسم خشک رہے گا۔ بادلوں کی موجودگی رویت ہلال میں رکاوٹ بن سکتی ہے، لیکن چاند کی بلندی اور چمک اتنی زیادہ ہوگی کہ بادلوں کے ٹکڑوں کے درمیان سے بھی اسے دیکھا جا سکے گا۔
| تفصیلات | تاریخ / وقت (پاکستانی وقت) |
|---|---|
| چاند کی پیدائش | 17 فروری 2026، شام 5:01 |
| رویت کا دن (چاند دیکھنے کا دن) | 18 فروری 2026 (بدھ) |
| چاند کی متوقع عمر (غروب آفتاب پر) | 25 گھنٹے 48 منٹ |
| افق پر رہنے کا دورانیہ | تقریباً 59 منٹ |
| پہلا روزہ (متوقع) | 19 فروری 2026 (جمعرات) |
| عید الفطر (متوقع) | 20 یا 21 مارچ 2026 |
رمضان المبارک کی فضیلت اور اہمیت
رمضان المبارک صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ تقویٰ، پرہیزگاری اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں قرآن مجید کا نزول ہوا، جو کہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ مسلمان اس مہینے میں خصوصی عبادات جیسے تراویح، اعتکاف اور شب قدر کی تلاش کرتے ہیں۔
پاکستانی معاشرے میں رمضان کی روایتی گہما گہمی دیکھنے کے لائق ہوتی ہے۔ مساجد میں رونقیں بحال ہو جاتی ہیں اور سحری و افطار کے وقت اجتماعی دسترخوان بچھائے جاتے ہیں۔ مہنگائی کے باوجود لوگ دل کھول کر خیرات اور صدقات کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس مہینے کی اصل روح کو سمجھتے ہوئے اپنے اردگرد موجود غریب اور نادار لوگوں کا خیال رکھیں۔
عید الفطر 2026 کی متوقع تاریخ
اگر رمضان المبارک کا آغاز 19 فروری کو ہوتا ہے، تو عید الفطر کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مہینہ 29 دن کا ہوتا ہے یا 30 دن کا۔ سائنسی حسابات کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ رمضان کے 30 روزے پورے ہوں گے، جس کے نتیجے میں عید الفطر 21 مارچ 2026 کو متوقع ہے۔ تاہم، یہ ابھی ایک ابتدائی اندازہ ہے اور حتمی اعلان وقت آنے پر ہی کیا جائے گا۔ مزید تفصیلات اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے ویب پیجز کو وزٹ کریں۔
خلاصہ اور اہم تواریخ کا چارٹ
خلاصہ کلام یہ ہے کہ رمضان 2026 کی تاریخ کے حوالے سے تمام سائنسی اور فلکیاتی اشارے 19 فروری کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ قوم کو چاہیے کہ وہ 18 فروری کی شام کو رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کا انتظار کرے اور اس کے مطابق اپنی عبادات کا شیڈول ترتیب دے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ رمضان ہمارے ملک اور پوری دنیا کے لیے امن، سلامتی اور برکتوں کا پیغام لے کر آئے۔
سرکاری اعلانات کے لیے محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ پر بھی نظر رکھی جا سکتی ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری اور مستند ذرائع ابلاغ پر یقین کریں۔


