spot_img

مقبول خبریں

جمع

سوکیش چندر شیکھر کا جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ کا ہیلی کاپٹر تحفہ: منی لانڈرنگ کیس کا نیا موڑ

سوکیش چندر شیکھر نے ویلنٹائن ڈے پر جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ مالیت کا ہیلی کاپٹر تحفہ میں دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ جانئے منی لانڈرنگ کیس اور ای ڈی کی تحقیقات کی مکمل تفصیلات اس خصوصی رپورٹ میں۔

5G سپیکٹرم نیلامی: پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب اور پی ٹی اے کا انفارمیشن میمورنڈم

5G سپیکٹرم نیلامی اور انفارمیشن میمورنڈم کا اجراء پاکستان میں ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز ہے۔ پی ٹی اے اور وزارت آئی ٹی کی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل کی تفصیلی رپورٹ۔

آئی ایم ایف اور پاکستان: بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور توانائی اصلاحات پر اہم مذاکرات

آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں اضافے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر تفصیلی تجزیہ۔ گردشی قرضے اور عوامی ریلیف کا احاطہ۔

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی وائرل ویڈیو: میرب علی کا ردعمل اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی پرانی ویڈیو وائرل ہونے پر میرب علی کی پراسرار انسٹاگرام اسٹوری نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ تفصیلات اور تجزیہ جانئے۔

ایران جوہری مذاکرات: جنیوا میں جاری کشیدگی، امریکہ اور تہران کا نیا تنازعہ

ایران جوہری مذاکرات جنیوا میں فیصلہ کن موڑ پر۔ امریکہ اور تہران کے درمیان ایٹمی پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پر تفصیلی تجزیہ پڑھیے۔

پاکستان سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی 2026: ٹیرف میں تبدیلی اور صارفین پر اثرات

پاکستان سولر نیٹ میٹرنگ کا نظام گزشتہ چند سالوں سے ملک کے توانائی کے شعبے میں ایک انقلابی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی حکومت اور نیپرا (NEPRA) کی جانب سے اس حوالے سے نئی پالیسیوں اور ٹیرف میں ردوبدل کی خبروں نے صارفین میں تشویش اور تجسس دونوں کو جنم دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں کے پیش نظر، گھریلو اور تجارتی صارفین کی بڑی تعداد شمسی توانائی کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جس کا براہ راست اثر قومی گرڈ اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) کی آمدنی پر پڑ رہا ہے۔

پاکستان سولر نیٹ میٹرنگ: موجودہ صورتحال اور پس منظر

پاکستان میں توانائی کا بحران کوئی نئی بات نہیں، لیکن جس تیزی سے صارفین نے نیشنل گرڈ پر انحصار کم کرتے ہوئے پاکستان سولر نیٹ میٹرنگ کو اپنایا ہے، یہ پالیسی سازوں کے لیے ایک نیا چیلنج بن گیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ کے لائسنس ہولڈرز کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اس نظام کے تحت صارفین اپنی ضرورت سے زائد پیدا کردہ بجلی واپس گرڈ کو فروخت کر سکتے ہیں، جس کا معاوضہ ان کے بجلی کے بلوں میں ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ تاہم، حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے کیپیسٹی پیمنٹ (Capacity Payments) کا بوجھ بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے پالیسی میں نظرثانی کی جا رہی ہے۔

نیپرا کی نئی پالیسی 2026: کیا تبدیلیاں لائی گئی ہیں؟

نیپرا کی جانب سے 2026 کے لیے تجویز کردہ ترامیم کا مقصد سولر صارفین اور ڈسکوز کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ نئی تجاویز میں ‘بائی بیک ریٹس’ (Buy-back rates) میں کمی اور فکسڈ چارجز کا نفاذ شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی سطح پر شمسی توانائی کی پیداوار میں تیزی (Solar Cycle Trends) دیکھی جا رہی ہے، پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کے باعث گرڈ اس اضافی بجلی کو سنبھالنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ نیپرا کا نیا فریم ورک اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ سولر نہ لگانے والے غریب صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

نیٹ میٹرنگ ٹیرف اور بجلی کی خرید و فروخت کا تقابلی جائزہ

نیچے دیا گیا جدول موجودہ اور تجویز کردہ ریٹس کا ایک تقابلی جائزہ پیش کرتا ہے جو صارفین کو مالیاتی اثرات سمجھنے میں مدد دے گا:

تفصیلات (Category) پرانا ریٹ 2024-25 (PKR/Unit) مجوزہ ریٹ 2026 (PKR/Unit) متوقع اثرات (Impact)
گرڈ سے بجلی کی خریداری (Off-Peak) 45 – 55 روپے 55 – 65 روپے مہنگائی میں اضافہ
گرڈ کو بجلی کی فروخت (Buy-Back) 19 – 22 روپے 11 – 15 روپے (متوقع) صارفین کی بچت میں کمی
سولر سسٹم کی واپسی (ROI Period) 3 – 3.5 سال 4.5 – 5 سال سرمایہ کاری کی واپسی میں تاخیر

گرین میٹر کے حصول کا طریقہ کار اور انتظامی رکاوٹیں

صارفین کی سب سے بڑی شکایت گرین میٹر (Bi-directional Meter) کے حصول میں تاخیر ہے۔ اگرچہ قوانین واضح ہیں، لیکن مقامی سب ڈویژن دفاتر میں میٹرز کی قلت اور این او سی (NOC) کے حصول میں حائل رکاوٹیں پاکستان سولر نیٹ میٹرنگ کے عمل کو سست کر رہی ہیں۔ 2026 میں حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ‘ون ونڈو آپریشن’ کے تحت اس عمل کو شفاف اور تیز بنایا جائے گا تاکہ صارفین کو مہینوں انتظار نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ، معیاری انورٹرز اور پینلز کی تنصیب کو یقینی بنانے کے لیے بھی سخت چیک اینڈ بیلنس کا نظام لایا جا رہا ہے۔

سولر سسٹم کی تنصیب: لاگت بمقابلہ طویل مدتی منافع

معاشی ماہرین کے مطابق، ٹیرف میں کمی کے باوجود سولر سسٹم لگانا اب بھی فائدہ مند ہے۔ چونکہ بجلی کی بنیادی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور معاشی عدم استحکام (Economic Instability) کی وجہ سے روپے کی قدر دباؤ میں ہے، سولر سسٹم ایک طرح کی انشورنس فراہم کرتا ہے۔ ایک اوسط 10 کلو واٹ کا سسٹم، جو پہلے 3 سال میں اپنی قیمت پوری کرتا تھا، اب نئے ریٹس کے ساتھ تقریباً 4 سے 5 سال میں قیمت پوری کرے گا، لیکن اس کے بعد 20 سال تک مفت بجلی کی فراہمی جاری رہے گی۔

توانائی بحران، آئی ایم ایف کی شرائط اور مستقبل کا لائحہ عمل

پاکستان کی توانائی پالیسی پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کا گہرا اثر ہے۔ سرکلر ڈیٹ (Circular Debt) کو کم کرنے کے لیے آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی کو ‘کاسٹ ریکوری’ کے اصولوں پر استوار کیا جائے۔ حکومت کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ ہے کہ وہ قابل تجدید توانائی (Renewable Energy) کی حوصلہ افزائی کرے یا ڈسکوز کے مالی خسارے کو کم کرے۔ مستقبل قریب میں یہ امکان ہے کہ ‘نیٹ میٹرنگ’ کی جگہ ‘نیٹ بلنگ’ یا ‘گراس میٹرنگ’ کا نظام لایا جائے، جو شمسی توانائی کے شعبے کی سمت کا تعین کرے گا۔ مزید تکنیکی معلومات کے لیے آپ نیپرا کی آفیشل ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں۔

spot_imgspot_img