فہرست مضامین
- وندے ماترم کا تاریخی پس منظر اور آنند مٹھ کا کردار
- بھارتی آئین میں وندے ماترم کی قانونی اور آئینی حیثیت
- بی جے پی اور آر ایس ایس کا سیاسی ایجنڈا
- حب الوطنی کا نیا پیمانہ اور اقلیتوں پر دباؤ
- سیکولرزم بمقابلہ ہندوتوا: ایک گہری نظریاتی جنگ
- تعلیمی اداروں میں لازمی گائیکی کا تنازعہ
- مسلم پرسنل لا اور مذہبی عقائد کا ٹکراؤ
- بھارتی سیاست اور سماج پر اس تنازعے کے دور رس اثرات
- مستقبل کا منظرنامہ: کیا بھارت کا سیکولر تشخص باقی رہے گا؟
وندے ماترم بھارتی سیاست میں محض ایک نغمہ نہیں رہا بلکہ اب یہ ایک شدید سیاسی اور نظریاتی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ بھارت، جو اپنے آئین کی رو سے ایک سیکولر ریاست ہے، موجودہ دور میں ہندوتوا نظریات کے غلبے کی وجہ سے اپنی بنیادی اقدار سے دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس تبدیلی میں ’وندے ماترم‘ کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا جانا ایک نہایت اہم اور حساس معاملہ ہے۔ موجودہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی سرپرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے اس نغمے کو قوم پرستی اور حب الوطنی کا واحد پیمانہ قرار دینے کی کوشش کی ہے، جس نے بھارت کی مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر دی ہے۔ یہ مضمون اس بات کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ کس طرح ایک ادبی تخلیق کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور اس کے نتیجے میں بھارتی سماج میں کس قسم کی تقسیم پیدا ہو رہی ہے۔
وندے ماترم کا تاریخی پس منظر اور آنند مٹھ کا کردار
وندے ماترم کی جڑیں انیسویں صدی کے بنگال میں پیوست ہیں۔ یہ نغمہ مشہور بنگالی مصنف بکم چندر چٹرجی نے 1870 کی دہائی میں لکھا تھا اور بعد ازاں اسے 1882 میں اپنے متنازعہ ناول ’آنند مٹھ‘ میں شامل کیا۔ تاریخ دانوں کے مطابق، آنند مٹھ ناول کا پس منظر سنیاسی بغاوت پر مبنی تھا، لیکن اس میں مسلمانوں کو غیر ملکی اور غاصب کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ ناول کے متن اور نغمے کے الفاظ میں مادرِ وطن کو ایک دیوی (درگا یا کالی) کے روپ میں پیش کیا گیا ہے، جس کی پوجا کا درس دیا گیا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے تنازعہ جنم لیتا ہے۔ آزادی کی تحریک کے دوران، انڈین نیشنل کانگریس نے اس نغمے کے ابتدائی دو بندوں کو قومی نغمے کے طور پر اپنایا، کیونکہ ان میں صرف مادرِ وطن کی تعریف تھی، لیکن اس کے بقیہ حصے، جن میں بت پرستی کا عنصر نمایاں تھا، کو حذف کر دیا گیا تاکہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں۔ تاہم، موجودہ دور میں ہندوتوا تنظیمیں پورے نغمے کو مسلط کرنے پر بضد ہیں، جو تاریخ کو مسخ کرنے اور اقلیتوں کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔
بھارتی آئین میں وندے ماترم کی قانونی اور آئینی حیثیت
بھارتی آئین ساز اسمبلی نے جب قومی علامات کا انتخاب کیا، تو ’جن گن من‘ کو قومی ترانہ (National Anthem) اور ’وندے ماترم‘ کو قومی نغمہ (National Song) کا درجہ دیا۔ ڈاکٹر راجندر پرساد نے 24 جنوری 1950 کو آئین ساز اسمبلی میں بیان دیا تھا کہ وندے ماترم کو جن گن من کے برابر احترام دیا جائے گا کیونکہ اس نے تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، آئینی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ قانونی طور پر کسی بھی شہری کو وندے ماترم گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اپنے مختلف فیصلوں میں یہ واضح کیا ہے کہ حب الوطنی کا ثبوت دینے کے لیے اس نغمے کو گانا لازمی نہیں ہے۔ اس کے باوجود، ریاستی سطح پر مختلف قوانین اور حکومتی احکامات کے ذریعے اسے اسکولوں اور سرکاری تقریبات میں لازمی کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، جو آئین کی روح کے منافی ہیں۔
| خصوصیت | قومی ترانہ (جن گن من) | قومی نغمہ (وندے ماترم) |
|---|---|---|
| مصنف | رابندر ناتھ ٹیگور | بکم چندر چٹرجی |
| بنیادی زبان | بنگالی (سنسکرت آمیز) | بنگالی اور سنسکرت |
| آئینی حیثیت | آئین کے تحت سرکاری ترانہ | ترانے کے برابر تاریخی حیثیت |
| تنازعہ کی نوعیت | تقریباً غیر متنازعہ | انتہائی متنازعہ (مذہبی بنیادوں پر) |
بی جے پی اور آر ایس ایس کا سیاسی ایجنڈا
بی جے پی اور آر ایس ایس نے وندے ماترم کو محض ایک نغمے سے بڑھا کر ایک سیاسی نعرے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان جماعتوں کے نزدیک، بھارت میں رہنے کا حق صرف انہی کو ہے جو ان کے طے کردہ ثقافتی اور مذہبی پیمانوں پر پورا اترتے ہیں۔ انتخابی ریلیوں سے لے کر پارلیمنٹ کے اجلاسوں تک، بی جے پی کے رہنما اس نعرے کو مخالفین کو چپ کرانے اور اپنی قوم پرستی کا سکہ جمانی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے آپ ہماری خبروں کی تفصیلی فہرست دیکھ سکتے ہیں جہاں اس موضوع پر مزید رپورٹس موجود ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ وندے ماترم کا مسئلہ اٹھا کر بی جے پی اصل عوامی مسائل جیسے مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ ایک جذباتی کارڈ ہے جو ہر الیکشن سے پہلے کھیلا جاتا ہے تاکہ ہندو ووٹ بینک کو متحد کیا جا سکے اور اقلیتوں کے خلاف نفرت کو ہوا دی جا سکے۔
حب الوطنی کا نیا پیمانہ اور اقلیتوں پر دباؤ
مودی حکومت کے دور میں حب الوطنی کی تعریف کو محدود اور مخصوص کر دیا گیا ہے۔ اب محب وطن ہونے کے لیے آئین کی پاسداری کافی نہیں سمجھی جاتی، بلکہ ہندوتوا کے شعار کو اپنانا ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ اقلیتی برادریوں، بالخصوص مسلمانوں پر یہ دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ وندے ماترم گا کر اپنی وفاداری ثابت کریں۔ کئی واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ ہجوم کے تشدد (Mob Lynching) کے دوران متاثرین کو زبردستی یہ نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔ یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ بھارت کے جمہوری ڈھانچے کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ جب ریاست حب الوطنی کو کسی خاص مذہبی یا ثقافتی علامت سے جوڑ دیتی ہے، تو وہ ان تمام شہریوں کو اجنبی بنا دیتی ہے جو اس علامت سے عقیدت نہیں رکھتے، حالانکہ وہ ریاست کے وفادار شہری ہوتے ہیں۔
سیکولرزم بمقابلہ ہندوتوا: ایک گہری نظریاتی جنگ
وندے ماترم کا تنازعہ دراصل بھارت میں جاری دو بڑے نظریات کی جنگ کا مظہر ہے: سیکولرزم بمقابلہ ہندوتوا۔ نہرو اور گاندھی کا بھارت ایک ایسا ملک تھا جہاں تمام مذاہب کو برابر کی آزادی اور احترام حاصل تھا، اور ریاست کا کوئی مذہب نہیں تھا۔ اس کے برعکس، ساورکر اور گولوالکر کے نظریات پر مبنی ہندوتوا کا ماڈل بھارت کو ایک ’ہندو راشٹر‘ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جہاں غیر ہندوؤں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جائے۔ وندے ماترم کو زبردستی لاگو کرنا اسی ہندوتوا پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ سیکولر حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاست کو شہریوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی حب الوطنی کا کوئی مذہبی امتحان لیا جا سکتا ہے۔
تعلیمی اداروں میں لازمی گائیکی کا تنازعہ
تعلیمی ادارے، جو کہ شعور اور رواداری کے مراکز ہونے چاہئیں، اب سیاسی اکھاڑے بن چکے ہیں۔ مدراس ہائی کورٹ کے ایک فیصلے نے جس میں اسکولوں میں ہفتے میں کم از کم ایک بار وندے ماترم گانا لازمی قرار دیا گیا تھا، ملک گیر بحث چھیڑ دی تھی۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے اس پر روک لگا دی، لیکن بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں غیر اعلانیہ طور پر اسکولوں میں اسے لازمی کیا جا رہا ہے۔ مسلمان طلبا اور ان کے والدین کے لیے یہ ایک ذہنی اذیت کا باعث ہے، کیونکہ وہ اپنے بچوں کو ایسے کلمات ادا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے جو ان کے عقیدہ توحید سے متصادم ہوں۔ ہمارے کیٹیگری سیکشن میں تعلیمی مسائل پر مزید مضامین موجود ہیں۔
مسلم پرسنل لا اور مذہبی عقائد کا ٹکراؤ
مسلمانوں کی جانب سے وندے ماترم کی مخالفت کی بنیادی وجہ سیاسی نہیں بلکہ خالصتاً مذہبی ہے۔ اسلام میں توحید (ایک اللہ کی عبادت) بنیادی عقیدہ ہے اور کسی بھی مخلوق، چاہے وہ زمین ہو یا وطن، کی پوجا کرنا یا اسے دیوی کا درجہ دینا شرک سمجھا جاتا ہے۔ وندے ماترم کے اشعار میں وطن کو دھرتی ماتا اور دیوی کے روپ میں پیش کیا گیا ہے جس کے سامنے سر جھکانے کا ذکر ہے۔ دارالعلوم دیوبند اور دیگر اسلامی اداروں نے بارہا فتاویٰ جاری کیے ہیں کہ مسلمان وطن سے محبت ضرور کرتے ہیں اور اس کے لیے جان دینے کو تیار ہیں، لیکن وہ وطن کی پوجا نہیں کر سکتے۔ یہ موقف بھارتی آئین کی دفعہ 25 کے عین مطابق ہے جو ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دیتی ہے۔
بھارتی سیاست اور سماج پر اس تنازعے کے دور رس اثرات
اس تنازعے نے بھارتی سماج کے تانے بانے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی جگہ نفرت اور شک نے لے لی ہے۔ سیاسی طور پر، اس نے ووٹرز کی شدید پولرائزیشن (Polarization) کی ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جو اسے قومی فخر کا مسئلہ سمجھتا ہے اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اسے مذہبی آزادی پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ میڈیا کا ایک بڑا حصہ بھی جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کر رہا ہے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے۔ اس صورتحال کا فائدہ انتہا پسند عناصر اٹھا رہے ہیں جو ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ: کیا بھارت کا سیکولر تشخص باقی رہے گا؟
وندے ماترم کا تنازعہ محض ایک گیت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کے مستقبل کی سمت کا تعین کرنے والا معاملہ ہے۔ اگر ہندوتوا کے علمبردار اپنی مرضی مسلط کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو بھارت کا سیکولر آئین عملی طور پر غیر مؤثر ہو جائے گا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اور ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیمیں اقلیتوں کے حقوق پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ اور سول سوسائٹی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ حب الوطنی کو کسی خاص مذہبی رنگ میں نہ رنگا جائے، بلکہ آئینی اقدار کی پاسداری کو ہی مقدم رکھا جائے۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ وکی پیڈیا پر بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ بھارت کی بقا اسی میں ہے کہ وہ اپنے کثرت میں وحدت (Unity in Diversity) کے اصول پر قائم رہے اور تمام شہریوں کو برابری کی سطح پر قبول کرے۔
قارئین، اس اہم موضوع پر مزید خبروں اور تجزیوں تک رسائی کے لیے آپ ہماری ویب سائٹ کا وزٹ جاری رکھیں۔


