فہرست مضامین
- بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں گروپ بندی اور تنازعات
- ویرات کوہلی اور روہت شرما: سرد جنگ کی حقیقت
- سوشل میڈیا کا کردار اور مداحوں کا ردعمل
- ہاردک پانڈیا کی کپتانی اور سینئر کھلاڑیوں کا رویہ
- آئی پی ایل کے اثرات: ممبئی انڈینز کے ڈریسنگ روم کے واقعات
- کوچنگ اسٹاف اور مینجمنٹ کی مبینہ ناکامی
- اہم میچوں میں شکست اور اس کے نفسیاتی اسباب
- پاک بھارت میچ کا دباؤ اور کھلاڑیوں کا ٹکراؤ
- بی سی سی آئی کا کردار اور سیاسی مداخلت
- مستقبل کا لائحہ عمل اور اصلاحات کی ضرورت
بھارتی کھلاڑیوں کی لڑائی اور اندرونی اختلافات کی خبریں اب محض افواہیں نہیں رہیں بلکہ یہ بھارتی کرکٹ کے ایوانوں میں ایک زلزلے کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ کرکٹ، جسے بھارت میں ایک مذہب کا درجہ حاصل ہے، اب سیاست، انا اور ذاتی دشمنیوں کا اکھاڑا بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں ٹیم انڈیا کی کارکردگی میں جو عدم تسلسل دیکھا گیا ہے، کرکٹ کے پنڈت اور تجزیہ نگار اس کی بڑی وجہ ڈریسنگ روم کا زہریلا ہوتا ہوا ماحول قرار دے رہے ہیں۔ کیا واقعی بھارتی ٹیم متحد ہے؟ یا پھر اندرونی طور پر یہ ٹیم کئی دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے؟ اس تفصیلی رپورٹ میں ہم ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے جو مین ان بلیو کے زوال کا سبب بن رہے ہیں۔
بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں گروپ بندی اور تنازعات
بھارتی کرکٹ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سنیل گواسکر اور کپل دیو کے دور سے لے کر سچن ٹنڈولکر اور اظہر الدین کے زمانے تک، قیادت اور بالادستی کی جنگ ہمیشہ جاری رہی ہے۔ تاہم، موجودہ دور میں بھارتی کھلاڑیوں کی لڑائی نے میڈیا اور سوشل میڈیا کی بدولت ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ ماضی میں باتیں ڈریسنگ روم تک محدود رہتی تھیں، لیکن اب ہر چھوٹی بات جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ مہندر سنگھ دھونی کے دور میں ٹیم بظاہر متحد نظر آتی تھی، لیکن ان کے جانے کے بعد سے ٹیم میں واضح طور پر دو یا تین بڑے گروہ بن چکے ہیں۔ ایک گروہ ویرات کوہلی کا وفادار سمجھا جاتا ہے جبکہ دوسرا روہت شرما کی حمایت کرتا ہے۔ یہ گروپ بندی نہ صرف میدان میں نظر آتی ہے بلکہ ٹیم سلیکشن پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ویرات کوہلی اور روہت شرما: سرد جنگ کی حقیقت
موجودہ بھارتی ٹیم کے سب سے بڑے دو ستارے، ویرات کوہلی اور روہت شرما، بظاہر کیمرے کے سامنے ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے ہیں، لیکن باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس تنازعے کی جڑیں 2019 کے ورلڈ کپ کے بعد گہری ہوئیں جب روہت شرما نے انسٹاگرام پر ویرات کوہلی اور ان کی اہلیہ انوشکا شرما کو ان فالو کر دیا تھا۔ اگرچہ بعد میں حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی گئی، لیکن کپتانی کی تبدیلی کے وقت یہ اختلافات دوبارہ سطح پر آ گئے۔ جب ویرات کوہلی کو ون ڈے کی کپتانی سے ہٹایا گیا تو ان کی پریس کانفرنس نے بی سی سی آئی اور روہت شرما کیمپ کے درمیان خلیج کو واضح کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ میدان میں فیلڈنگ پلیسمنٹ اور بولنگ میں تبدیلیوں کے دوران دونوں کھلاڑیوں کے درمیان باڈی لینگویج اکثر سرد مہری کا شکار نظر آتی ہے، جو کہ ٹیم کے مورال کے لیے نقصان دہ ہے۔
سوشل میڈیا کا کردار اور مداحوں کا ردعمل
سوشل میڈیا نے بھارتی کھلاڑیوں کی لڑائی کو ہوا دینے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ فین وارز (Fan Wars) نے کھلاڑیوں کے ذہنوں پر بھی اثر ڈالا ہے۔ کوہلی کے مداح روہت کی ہر ناکامی پر جشن مناتے ہیں اور روہت کے مداح کوہلی کی خراب فارم پر طنز کرتے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل جنگ کھلاڑیوں کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔ کئی بار دیکھا گیا ہے کہ کھلاڑی خود سوشل میڈیا پر مبہم پیغامات جاری کرتے ہیں جو جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ ٹوئٹر (ایکس) اور انسٹاگرام پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں اکثر کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کو نظر انداز کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے، جس سے عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ ٹیم میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
| واقعہ / تنازعہ | شامل کھلاڑی | سال | نتیجہ / اثرات |
|---|---|---|---|
| انسٹاگرام ان فالو تنازعہ | روہت شرما بمقابلہ ویرات کوہلی | 2019 | میڈیا میں شدید قیاس آرائیاں اور ڈریسنگ روم میں کشیدگی |
| کپتانی سے برطرفی | ویرات کوہلی بمقابلہ گنگولی (BCCI) | 2021-22 | بورڈ اور کھلاڑیوں کے درمیان اعتماد کا فقدان |
| ممبئی انڈینز کی کپتانی | ہاردک پانڈیا بمقابلہ روہت شرما | 2024 | اسٹیڈیم میں ہاردک کی ہوٹنگ اور ٹیم میں تقسیم |
| کوچنگ کے مسائل | انیل کمبلے بمقابلہ ویرات کوہلی | 2017 | ہیڈ کوچ کا استعفیٰ اور کھلاڑیوں کی طاقت میں اضافہ |
ہاردک پانڈیا کی کپتانی اور سینئر کھلاڑیوں کا رویہ
حال ہی میں ہاردک پانڈیا کو جس طرح پروموٹ کیا گیا اور خاص طور پر آئی پی ایل میں روہت شرما کی جگہ ممبئی انڈینز کا کپتان بنایا گیا، اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ رپورٹس کے مطابق روہت شرما، جسپریت بمراہ اور سوریا کمار یادو جیسے سینئر کھلاڑی اس فیصلے سے خوش نہیں تھے۔ اس ناچاکی کا اثر میدان میں صاف دیکھا گیا۔ ہاردک پانڈیا جب باؤلنگ یا فیلڈنگ میں تبدیلی کرتے تو سینئر کھلاڑی اکثر بے دلی سے عمل کرتے دکھائی دیے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ بورڈ اور فرنچائز مالکان کی جانب سے تھوپی گئی قیادت بعض اوقات ٹیم کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیتی ہے۔ نوجوان کھلاڑی جو ٹیم میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں، وہ اس رسہ کشی میں پس کر رہ جاتے ہیں کہ وہ کس کیمپ کا حصہ بنیں۔
آئی پی ایل کے اثرات: ممبئی انڈینز کے ڈریسنگ روم کے واقعات
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) جہاں نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کا ذریعہ ہے، وہیں یہ بھارتی کھلاڑیوں کی لڑائی کا ایک بڑا سبب بھی بن گیا ہے۔ کھلاڑی سال کے دو مہینے اپنی فرنچائز کے لیے مر مٹنے کو تیار ہوتے ہیں اور وہاں بننے والی رقابتیں بین الاقوامی کرکٹ میں بھی ساتھ چلتی ہیں۔ ممبئی انڈینز کے ڈریسنگ روم سے آنے والی خبروں نے ثابت کیا کہ روہت شرما کو کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ کھلاڑیوں نے دل سے قبول نہیں کیا۔ اسٹیڈیم میں شائقین کی طرف سے اپنے ہی ملک کے کھلاڑی (ہاردک) کو ہوٹنگ کرنا بھارتی کرکٹ کلچر کی ایک تاریک مثال بن گیا۔ یہ زہریلا کلچر اب قومی ٹیم میں بھی سرایت کر چکا ہے جہاں کھلاڑیوں کی وفاداری ملک سے زیادہ اپنی اپنی آئی پی ایل لابیوں کے ساتھ نظر آتی ہے۔
کوچنگ اسٹاف اور مینجمنٹ کی مبینہ ناکامی
راہول ڈریوڈ کے بعد گوتم گمبھیر کی بطور ہیڈ کوچ آمد سے توقع کی جا رہی تھی کہ ڈریسنگ روم کا ماحول سخت اور نظم و ضبط کا پابند ہو جائے گا۔ تاہم، گوتم گمبھیر خود ایک جذباتی اور جارحانہ مزاج کے مالک ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اور سینئر کھلاڑیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہونے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ٹیم میٹنگز میں اکثر سناٹا چھایا رہتا ہے اور کھلاڑی کھل کر اپنے مسائل بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ایک کامیاب ٹیم کے لیے کوچ اور کپتان کا ایک صفحے پر ہونا ضروری ہے، لیکن موجودہ سیٹ اپ میں مینجمنٹ کھلاڑیوں کے انا کو سنبھالنے (Man Management) میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ اندرونی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے جس غیر جانبدارانہ رویے کی ضرورت ہے، وہ فی الحال مفقود ہے۔
اہم میچوں میں شکست اور اس کے نفسیاتی اسباب
آئی سی سی ٹورنامنٹس کے ناک آؤٹ مرحلے میں بھارت کی مسلسل ناکامیوں کی ایک بڑی وجہ یہی اندرونی خلفشار ہے۔ جب ٹیم متحد نہیں ہوتی تو دباؤ کے لمحات میں کھلاڑی ایک دوسرے کا سہارا بننے کے بجائے اپنی انفرادی کارکردگی کو بچانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق، جب کھلاڑیوں کا ذہن میدان سے باہر کی سیاست میں الجھا ہو تو وہ سو فیصد کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔ بھارتی کھلاڑیوں کی لڑائی کی خبریں مخالف ٹیموں کو بھی نفسیاتی برتری فراہم کرتی ہیں۔ مخالف ٹیمیں جانتی ہیں کہ اگر وہ ابتدائی وکٹیں حاصل کر لیں یا دباؤ ڈالیں تو بھارتی ٹیم بکھر سکتی ہے کیونکہ ان کے درمیان وہ مضبوط رشتہ نہیں جو مشکل وقت میں کام آتا ہے۔
پاک بھارت میچ کا دباؤ اور کھلاڑیوں کا ٹکراؤ
پاکستان کے خلاف میچ ہمیشہ ہائی وولٹیج ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اگر ٹیم میں یکجہتی نہ ہو تو نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ پاک بھارت ٹاکرے کے بعد ہارنے والی ٹیم کے کھلاڑیوں پر شدید تنقید ہوتی ہے، اور اگر ٹیم میں پہلے سے اختلافات ہوں تو شکست کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالا جاتا ہے۔ پریس کانفرنسوں میں کپتان اور کھلاڑیوں کے بیانات میں تضاد اسی بات کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھارتی میڈیا بھی ان مواقع پر ایسے سوالات اٹھاتا ہے جن سے کھلاڑیوں کے درمیان دوریاں مزید بڑھتی ہیں۔
مزید تفصیلات اور بین الاقوامی درجہ بندی جاننے کے لیے آپ آئی سی سی کی آفیشل ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں۔
بی سی سی آئی کا کردار اور سیاسی مداخلت
دنیا کا امیر ترین کرکٹ بورڈ ہونے کے باوجود، بی سی سی آئی ان مسائل کو حل کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ بورڈ کے اندرونی سیاسی معاملات ہیں۔ سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین کی بار بار تبدیلی اور خفیہ اسٹنگ آپریشنز میں سامنے آنے والے انکشافات نے ثابت کیا ہے کہ بورڈ کے عہدیداران بھی کھلاڑیوں کے بارے میں تعصب رکھتے ہیں۔ جب بورڈ کے اعلیٰ عہدیداران ہی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کریں گے تو کھلاڑیوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونا لازمی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک بورڈ میرٹ اور شفافیت کو ترجیح نہیں دے گا، کھلاڑیوں کے درمیان سازشیں ختم نہیں ہوں گی۔
مستقبل کا لائحہ عمل اور اصلاحات کی ضرورت
بھارتی کرکٹ ٹیم کو اگر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنی ہے تو سب سے پہلے بھارتی کھلاڑیوں کی لڑائی اور انا کے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے چند سخت فیصلوں کی ضرورت ہے:
- سینئر کھلاڑیوں کو اپنی ذاتی رنجشیں بھلا کر جونیئرز کے لیے رول ماڈل بننا ہوگا۔
- بی سی سی آئی کو ایک سخت کوڈ آف کنڈکٹ نافذ کرنا ہوگا جس کے تحت ٹیم کے اندرونی معاملات میڈیا میں لیک کرنے پر پابندی ہو۔
- کوچنگ اسٹاف کو مکمل اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ بغیر کسی دباؤ کے ٹیم سلیکشن اور حکمت عملی طے کر سکیں۔
- سوشل میڈیا کے استعمال پر کچھ پابندیاں یا گائیڈ لائنز ضروری ہیں تاکہ کھلاڑی بیرونی شور سے متاثر نہ ہوں۔
اختتام میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، لیکن ٹیم اسپرٹ کا فقدان بھارتی کرکٹ کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ اگر ان اندرونی اختلافات پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے ورلڈ کپ اور بڑی سیریز میں بھی بھارت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ‘میں’ کے بجائے ‘ہم’ کی سوچ اپنائی جائے تاکہ ترنگا ایک بار پھر سر بلند ہو سکے۔


