spot_img

مقبول خبریں

جمع

سوکیش چندر شیکھر کا جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ کا ہیلی کاپٹر تحفہ: منی لانڈرنگ کیس کا نیا موڑ

سوکیش چندر شیکھر نے ویلنٹائن ڈے پر جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ مالیت کا ہیلی کاپٹر تحفہ میں دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ جانئے منی لانڈرنگ کیس اور ای ڈی کی تحقیقات کی مکمل تفصیلات اس خصوصی رپورٹ میں۔

5G سپیکٹرم نیلامی: پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب اور پی ٹی اے کا انفارمیشن میمورنڈم

5G سپیکٹرم نیلامی اور انفارمیشن میمورنڈم کا اجراء پاکستان میں ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز ہے۔ پی ٹی اے اور وزارت آئی ٹی کی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل کی تفصیلی رپورٹ۔

آئی ایم ایف اور پاکستان: بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور توانائی اصلاحات پر اہم مذاکرات

آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں اضافے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر تفصیلی تجزیہ۔ گردشی قرضے اور عوامی ریلیف کا احاطہ۔

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی وائرل ویڈیو: میرب علی کا ردعمل اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی پرانی ویڈیو وائرل ہونے پر میرب علی کی پراسرار انسٹاگرام اسٹوری نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ تفصیلات اور تجزیہ جانئے۔

ایران جوہری مذاکرات: جنیوا میں جاری کشیدگی، امریکہ اور تہران کا نیا تنازعہ

ایران جوہری مذاکرات جنیوا میں فیصلہ کن موڑ پر۔ امریکہ اور تہران کے درمیان ایٹمی پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پر تفصیلی تجزیہ پڑھیے۔

چیٹ جی پی ٹی: مصنوعی ذہانت کا نیا انقلاب اور اس کے عالمی اثرات کا تفصیلی جائزہ

چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) موجودہ دور کی سب سے نمایاں اور بحث طلب تکنیکی پیش رفت ہے جس نے لانچ ہوتے ہی دنیا بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ نومبر 2022 میں امریکی تحقیقاتی ادارے ‘اوپن اے آئی’ (OpenAI) کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا یہ مصنوعی ذہانت کا چیٹ بوٹ نہ صرف سوالات کے جوابات دینے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ مضامین لکھنے، کمپیوٹر کوڈنگ کرنے اور پیچیدہ مسائل حل کرنے میں بھی انسانی دماغ کے قریب تر نظر آتا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم اس ٹیکنالوجی کا نہایت باریکی سے جائزہ لیں گے اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ آخر یہ ٹیکنالوجی کام کیسے کرتی ہے اور اس کے انسانی مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

چیٹ جی پی ٹی کیا ہے؟ ایک تعارف

سادہ الفاظ میں، یہ ایک ایسا کمپیوٹر پروگرام ہے جو انسانوں کی طرح بات چیت کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کا نام ‘Generative Pre-trained Transformer’ (GPT) سے ماخوذ ہے۔ یہ ایک ‘لارج لینگویج ماڈل’ ہے جسے کھربوں الفاظ اور جملوں پر تربیت دی گئی ہے تاکہ یہ سمجھ سکے کہ انسان زبان کا استعمال کیسے کرتے ہیں۔ جب آپ اس سے کوئی سوال پوچھتے ہیں، تو یہ اپنے وسیع ڈیٹا بیس کی مدد سے سب سے زیادہ موزوں جواب ترتیب دے کر آپ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ یہ محض ایک سرچ انجن نہیں ہے جو آپ کو لنکس فراہم کرے، بلکہ یہ معلومات کا تجزیہ کر کے اسے ایک مکمل جواب کی صورت میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اوپن اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی کا تاریخی پس منظر

اس انقلابی ٹیکنالوجی کے پیچھے ‘اوپن اے آئی’ نامی تنظیم ہے جس کی بنیاد 2015 میں ایلون مسک، سیم آلٹمین اور دیگر نامور شخصیات نے رکھی تھی۔ اس تنظیم کا ابتدائی مقصد مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے فائدے کے لیے فروغ دینا تھا۔ اگرچہ ایلون مسک بعد میں اس بورڈ سے الگ ہو گئے، لیکن تنظیم نے اپنی تحقیق جاری رکھی۔ 2018 میں جی پی ٹی-1 متعارف کرایا گیا، جس کے بعد بتدریج بہتری لاتے ہوئے جی پی ٹی-2 اور پھر جی پی ٹی-3 سامنے آئے۔ تاہم، 30 نومبر 2022 کو جب چیٹ جی پی ٹی (جو کہ جی پی ٹی-3.5 پر مبنی تھا) کو عوامی استعمال کے لیے مفت فراہم کیا گیا، تو اس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ صرف دو ماہ کے اندر اس کے صارفین کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی، جو کہ انٹرنیٹ کی تاریخ میں کسی بھی ایپلیکیشن کی سب سے تیز ترین نمو تھی۔

لارج لینگویج ماڈلز کا طریقہ کار اور تکنیکی ساخت

اس ٹیکنالوجی کی بنیاد ‘ٹرانسفارمر آرکیٹیکچر’ پر ہے جسے گوگل نے 2017 میں متعارف کرایا تھا۔ یہ ماڈل الفاظ کے درمیان تعلق کو سمجھتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر جملہ ہے ‘سورج مشرق سے…’ تو ماڈل اپنی تربیت کی بنیاد پر پیش گوئی کرے گا کہ اگلا لفظ ‘نکلتا’ ہے۔ لیکن چیٹ جی پی ٹی صرف اگلے لفظ کا اندازہ نہیں لگاتا، بلکہ یہ سیاق و سباق (Context) کو سمجھنے کی گہری صلاحیت رکھتا ہے۔

انسانی فیڈبیک کا کردار (RLHF)

اسے مزید بہتر بنانے کے لیے ‘ری انفورسمنٹ لرننگ فرام ہیومن فیڈبیک’ (RLHF) کا طریقہ استعمال کیا گیا۔ اس عمل میں انسانوں نے ماڈل کے دیے گئے جوابات کی درجہ بندی کی اور اسے بتایا کہ کون سا جواب زیادہ درست، اخلاقی اور مفید ہے۔ اس طرح یہ ماڈل نہ صرف درست بات کرنا سیکھا بلکہ نامناسب یا خطرناک مواد سے گریز کرنا بھی اس کی تربیت کا حصہ بن گیا۔

جی پی ٹی 3.5 اور جی پی ٹی 4 کے درمیان فرق

اوپن اے آئی نے بعد ازاں جی پی ٹی-4 بھی متعارف کرایا جو کہ اپنے پیشرو سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ ذیل میں دیے گئے جدول میں ان دونوں ورژنز کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے تاکہ قارئین ان کی صلاحیتوں کا اندازہ لگا سکیں۔

خصوصیت جی پی ٹی-3.5 (مفت ورژن) جی پی ٹی-4 (پیڈ ورژن)
پیچیدگی سمجھنے کی صلاحیت درمیانے درجے کی پیچیدگی سمجھ سکتا ہے۔ انتہائی پیچیدہ اور باریک نکات سمجھنے کا اہل ہے۔
میموری (سیاق و سباق) تقریباً 3,000 الفاظ تک یاد رکھ سکتا ہے۔ 25,000 سے زائد الفاظ کا سیاق و سباق یاد رکھ سکتا ہے۔
تصویری ان پٹ صرف ٹیکسٹ (تحریر) پر کام کرتا ہے۔ تصاویر کو دیکھ کر ان کا تجزیہ کر سکتا ہے۔
غلطی کا امکان زیادہ ہے، کبھی کبھار غلط حقائق گھڑ لیتا ہے۔ بہت کم ہے، منطقی استدلال میں کافی بہتر ہے۔

تعلیمی شعبے پر چیٹ جی پی ٹی کے گہرے اثرات

تعلیمی دنیا میں اس ٹیکنالوجی کی آمد نے ایک بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ طلباء اس کا استعمال ہوم ورک کرنے، مضامین لکھنے اور ریاضی کے سوالات حل کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ اس رحجان نے اساتذہ اور تعلیمی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ آیا اس سے طلباء کی اپنی تخلیقی صلاحیتیں ختم تو نہیں ہو جائیں گی۔ کچھ تعلیمی اداروں نے ابتدائی طور پر اس پر پابندی لگائی، لیکن اب زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ اسے تعلیمی عمل کا حصہ بنانا چاہیے۔ مثال کے طور پر، یہ ایک ذاتی ٹیوٹر کی طرح کام کر سکتا ہے جو کسی بھی وقت طالب علم کو مشکل تصورات سمجھا سکتا ہے۔ تاہم، نقل اور چیٹنگ کے رجحان کو روکنے کے لیے امتحانی نظام میں تبدیلیوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

عالمی معیشت اور روزگار پر اثرات

معاشی ماہرین کے مطابق، چیٹ جی پی ٹی اور اس جیسی دیگر ٹیکنالوجیز لیبر مارکیٹ کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتی ہیں۔ وہ پیشے جو تحریر، تجزیہ، پروگرامنگ اور کسٹمر سروس سے وابستہ ہیں، ان پر سب سے زیادہ اثر پڑنے کا امکان ہے۔

گولڈمین سیکس کی ایک رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں کروڑوں نوکریوں کو متاثر کر سکتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ بلکہ، اس سے پیداواری صلاحیت (Productivity) میں زبردست اضافہ ہوگا۔ وہ لوگ جو اس ٹیکنالوجی کو اپنے کام میں استعمال کرنا سیکھ لیں گے، وہ دوسروں کی نسبت بہت آگے نکل جائیں گے۔ یہ ٹیکنالوجی انسانی معاون کے طور پر کام کرے گی، نہ کہ مکمل متبادل کے طور پر۔

اخلاقی مسائل، پرائیویسی اور ڈیٹا کا تحفظ

جہاں اس کے بے شمار فوائد ہیں، وہاں کچھ سنگین اخلاقی مسائل بھی سر اٹھا رہے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ ‘فیک نیوز’ اور غلط معلومات کا پھیلاؤ ہے۔ چونکہ یہ ماڈل انتہائی اعتماد کے ساتھ جواب دیتا ہے (چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو)، اس لیے لوگ آسانی سے دھوکا کھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کاپی رائٹ کے مسائل بھی ہیں۔ یہ ماڈلز انٹرنیٹ پر موجود مواد سے سیکھتے ہیں، جس میں مصنفین اور فنکاروں کا تخلیق کردہ مواد بھی شامل ہے، لیکن انہیں اس کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ پرائیویسی کے حوالے سے بھی خدشات موجود ہیں کہ جو ڈیٹا صارفین اس چیٹ بوٹ کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، کیا وہ محفوظ ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اٹلی نے عارضی طور پر اس پر پابندی بھی لگائی تھی اور اب یورپی یونین اس حوالے سے سخت قوانین بنا رہا ہے۔

گوگل اور دیگر کمپنیوں کا ردعمل

مائیکروسافٹ نے اوپن اے آئی میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی اور اپنی مصنوعات (جیسے کہ بنگ سرچ انجن اور مائیکروسافٹ آفس) میں اسے ضم کر دیا۔ اس اقدام نے گوگل کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی، کیونکہ گوگل کا سارا کاروبار سرچ انجن پر منحصر ہے۔ جواب میں گوگل نے اپنا چیٹ بوٹ ‘بارڈ’ (Bard) متعارف کرایا جسے اب ‘جیمنائی’ (Gemini) کا نام دیا گیا ہے۔ میٹا (فیس بک) بھی اپنے LLaMA ماڈلز کے ساتھ میدان میں ہے۔ اب یہ جنگ صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک عالمی تکنیکی دوڑ بن چکی ہے جسے ‘AI Arms Race’ کہا جا رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت کا مستقبل اور انسانیت

مستقبل قریب میں ہم دیکھیں گے کہ یہ ٹیکنالوجی مزید بہتر اور تیز ہو جائے گی۔ ماہرین کا اگلا ہدف ‘مصنوعی عمومی ذہانت’ (AGI) کا حصول ہے، یعنی ایسی مشین جو ہر لحاظ سے انسانی دماغ کے برابر یا اس سے بہتر ہو۔ اگر ایسا ممکن ہو گیا تو یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا موڑ ہوگا۔ یہ ٹیکنالوجی ادویات کی دریافت، ماحولیاتی تبدیلیوں کے حل اور خلائی تحقیق میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مزید مطالعہ کے لیے آپ اوپن اے آئی کی آفیشل ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں۔

حتمی نتیجہ اور ماہرانہ رائے

چیٹ جی پی ٹی بلاشبہ ایک دہائی کی سب سے بڑی ایجاد ہے۔ یہ ایک دو دھاری تلوار ہے؛ اگر اس کا استعمال ذمہ داری اور اخلاقی حدود میں رہ کر کیا جائے تو یہ انسانی ترقی کی رفتار کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔ لیکن اگر اس کے منفی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا تو یہ سماجی اور معاشی ڈھانچے کے لیے خطرات بھی پیدا کر سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو اپنائیں اور اپنے نوجوانوں کو اس کے استعمال کی تربیت دیں تاکہ وہ عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکیں۔

spot_imgspot_img