فہرست مضامین
- نیتن یاہو کی عالمی مہم اور ایران کے جوہری پروگرام پر نیا دباؤ
- جون 2025 کی جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ کا بدلتا ہوا منظرنامہ
- تہران کا ایٹمی پروگرام: جنیوا مذاکرات اور عالمی خدشات
- بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی اور علاقائی سلامتی کو لاحق خطرات
- ایران کے اندرونی حالات اور حکومت مخالف مظاہرے
- عرب دنیا کا ردعمل اور ابراہیم ایکارڈز کا مستقبل
- 2026 میں امن کے امکانات اور جنگ کے سائے
نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل نے 2026 کے آغاز سے ہی ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے خلاف اپنی سفارتی اور عسکری مہم کو ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ، جو ابھی تک جون 2025 کی تباہ کن جنگ کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ تل ابیب اور تہران کے درمیان جاری یہ کشیدگی نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس نے عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور یورپی یونین کو بھی ایک پیچیدہ سفارتی امتحان میں ڈال دیا ہے۔ بنجمن نیتن یاہو کا دو ٹوک موقف ہے کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا اسرائیل کی بقا کا معاملہ ہے، اور اس مقصد کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔
نیتن یاہو کی عالمی مہم اور ایران کے جوہری پروگرام پر نیا دباؤ
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی حالیہ تقاریر اور سفارتی ملاقاتوں میں واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر غیر فعال کرنے کے لیے عالمی برادری پر دباؤ بڑھاتے رہیں گے۔ ان کی اس مہم کا بنیادی مرکز وہ حالیہ انٹیلی جنس رپورٹس ہیں جن کے مطابق ایران نے اپنی یورینیم کی افزودگی کو 90 فیصد تک بڑھانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے، جو کہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار سطح ہے۔ نیتن یاہو نے اقوام متحدہ اور امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ایران چند ماہ کے اندر ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ کر سکتا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے یہ دباؤ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے۔ نیتن یاہو نے ان مذاکرات کو “وقت کا ضیاع” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سفارت کاری کا وقت گزر چکا ہے اور اب صرف “قابل بھروسہ فوجی خطرہ” ہی تہران کو روک سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی یہ حکمت عملی دراصل 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کی بحالی کے کسی بھی امکان کو ختم کرنے اور ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کروانے پر مبنی ہے۔
جون 2025 کی جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ کا بدلتا ہوا منظرنامہ
گزشتہ سال، یعنی جون 2025 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ براہ راست جنگ نے خطے کے جیو پولیٹیکل نقشے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران کے متعدد جوہری اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران نے سینکڑوں بیلسٹک میزائل فائر کیے۔ اگرچہ امریکہ کی مداخلت کے بعد جنگ بندی ہو گئی تھی، لیکن اس تنازع نے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری “خفیہ جنگ” (Shadow War) کو ایک کھلی جنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔
| موازنہ کا پہلو | جون 2025 سے قبل | فروری 2026 (موجودہ صورتحال) |
|---|---|---|
| تنازع کی نوعیت | پراکسی جنگ اور سائبر حملے | براہ راست عسکری تصادم اور فضائی حملے |
| جوہری پروگرام | افزودگی 60 فیصد تک محدود | افزودگی 90 فیصد کے قریب، بریک آؤٹ ٹائم کم |
| امریکی کردار | سفارتی دباؤ اور بالواسطہ حمایت | ٹرمپ انتظامیہ کی غیر مشروط عسکری حمایت |
| علاقائی اتحاد | ابراہیم ایکارڈز کا استحکام | عرب ممالک کی محتاط پالیسی اور تشویش |
اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی اور ’آکٹوپس نظریہ‘
نیتن یاہو نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو “آکٹوپس نظریہ” (Octopus Doctrine) کا نام دیا ہے، جس کے تحت اسرائیل اب صرف ایران کے پراکسی گروہوں (جیسے حزب اللہ یا حماس) سے لڑنے کے بجائے براہ راست “آکٹوپس کے سر” یعنی تہران کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے اپنی فضائی اور بحری صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے تاکہ ایران کے دور دراز اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔ اس حکمت عملی کا مقصد ایران کو یہ باور کرانا ہے کہ اسرائیل کے خلاف کسی بھی کارروائی کی بھاری قیمت اسے اپنی سرزمین پر چکانی پڑے گی۔
ٹرمپ انتظامیہ کی واپسی اور امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی
جنوری 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو اسرائیل کے حق میں جھکا دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اگر جنیوا مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو امریکہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے کسی بھی ممکنہ حملے کی حمایت کرے گا۔ یہ پالیسی بائیڈن دور کی محتاط سفارت کاری سے یکسر مختلف ہے۔ رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر نے نیتن یاہو کو یقین دلایا ہے کہ واشنگٹن ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے لاجسٹک مدد، بشمول فضا میں ایندھن بھرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔ مزید تفصیلات کے لیے ہماری خصوصی رپورٹس دیکھیں۔
تہران کا ایٹمی پروگرام: جنیوا مذاکرات اور عالمی خدشات
جنیوا میں جاری مذاکرات کو بہت سے تجزیہ کار “آخری موقع” قرار دے رہے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی وفد کے درمیان ہونے والی ان بات چیت کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا ہے، لیکن فریقین کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ پہلے تمام اقتصادی پابندیاں ہٹائی جائیں، جبکہ امریکہ اور یورپی طاقتیں تہران سے یورینیم کی افزودگی کو فوری طور پر روکنے اور آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کو مکمل رسائی دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
یورینیم کی افزودگی اور آئی اے ای اے کی حالیہ رپورٹس
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی فروری 2026 کی رپورٹ نے عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایران نے فوردو اور نتنز کی تنصیبات میں جدید ترین سنٹری فیوجز نصب کر لیے ہیں جو یورینیم کو انتہائی تیز رفتاری سے افزودہ کر رہے ہیں۔ آئی اے ای اے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ نگرانی کے کیمروں کی بندش کی وجہ سے ایجنسی کے پاس ایران کی موجودہ سرگرمیوں کی مکمل تصویر موجود نہیں ہے، جو کہ ایک خطرناک خلا پیدا کر رہی ہے۔
بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی اور علاقائی سلامتی کو لاحق خطرات
جوہری پروگرام کے علاوہ، ایران کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا میزائل پروگرام نیتن یاہو کی مہم کا دوسرا بڑا ہدف ہے۔ ایران کے پاس مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا میزائل ذخیرہ موجود ہے، جس میں شہاب-3، خیبر شکن، اور فتح سیریز کے میزائل شامل ہیں جو اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایران کے ہائپرسونک میزائل اور اسرائیل کا فضائی دفاع
سب سے زیادہ تشویشناک امر ایران کا ہائپرسونک میزائل ٹیکنالوجی کا دعویٰ ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتے ہیں اور جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں کو چکمہ دے سکتے ہیں۔ اس دعوے نے اسرائیل کو اپنے کثیرالجہتی دفاعی نظام (آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلنگ، اور ایرو-3) کو مزید مضبوط کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسرائیل اب لیزر ٹیکنالوجی پر مبنی “آئرن بیم” سسٹم کی تنصیب میں تیزی لا رہا ہے تاکہ ان جدید خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس موضوع پر مزید خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔
ایران کے اندرونی حالات اور حکومت مخالف مظاہرے
ایران کی داخلی صورتحال بھی انتہائی مخدوش ہے۔ دسمبر 2025 اور جنوری 2026 میں ہونے والے بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں نے ایرانی حکومت کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ اقتصادی بدحالی، افراط زر اور کرنسی کی گرتی ہوئی قدر نے عوام کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نیتن یاہو نے بارہا ایرانی عوام کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی لڑائی ایرانی عوام سے نہیں بلکہ “ظالم حکومت” سے ہے۔ اسرائیل ان داخلی کمزوریوں کو اپنی حکمت عملی کے تحت استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ تہران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
عرب دنیا کا ردعمل اور ابراہیم ایکارڈز کا مستقبل
مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک اس پوری صورتحال کو انتہائی محتاط انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، جنہوں نے حالیہ برسوں میں ایران کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کی تھی، اب دوبارہ کشیدگی بڑھنے پر پریشان ہیں۔ ابراہیم ایکارڈز کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والے ممالک بھی عوامی دباؤ اور علاقائی عدم استحکام کے خوف کے باعث اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ تاہم، پس پردہ سیکیورٹی تعاون جاری ہے کیونکہ عرب دنیا بھی ایک جوہری ایران کو اپنے لیے وجودی خطرہ سمجھتی ہے۔
2026 میں امن کے امکانات اور جنگ کے سائے
فروری 2026 کے وسط میں کھڑے ہو کر، مشرق وسطیٰ کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف جنگی تیاریاں بھی عروج پر ہیں۔ نیتن یاہو کی عالمی مہم نے ایران کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے، لیکن کیا یہ دباؤ ایران کو مذاکرات کی میز پر لائے گا یا پھر ایک اور بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوگا؟ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے چند ہفتے فیصلہ کن ہوں گے۔ اگر جنیوا مذاکرات ناکام ہوئے تو اسرائیل، امریکہ کی حمایت کے ساتھ، ایران کی جوہری تنصیبات پر ایک بڑا حملہ کر سکتا ہے، جس کے نتائج پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ مزید تفصیلات جاننے کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں۔
مزید مطالعہ کے لیے: ایران اسرائیل تنازع کی تاریخ (ویکیپیڈیا)


