spot_img

مقبول خبریں

جمع

سوکیش چندر شیکھر کا جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ کا ہیلی کاپٹر تحفہ: منی لانڈرنگ کیس کا نیا موڑ

سوکیش چندر شیکھر نے ویلنٹائن ڈے پر جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ مالیت کا ہیلی کاپٹر تحفہ میں دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ جانئے منی لانڈرنگ کیس اور ای ڈی کی تحقیقات کی مکمل تفصیلات اس خصوصی رپورٹ میں۔

5G سپیکٹرم نیلامی: پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب اور پی ٹی اے کا انفارمیشن میمورنڈم

5G سپیکٹرم نیلامی اور انفارمیشن میمورنڈم کا اجراء پاکستان میں ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز ہے۔ پی ٹی اے اور وزارت آئی ٹی کی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل کی تفصیلی رپورٹ۔

آئی ایم ایف اور پاکستان: بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور توانائی اصلاحات پر اہم مذاکرات

آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں اضافے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر تفصیلی تجزیہ۔ گردشی قرضے اور عوامی ریلیف کا احاطہ۔

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی وائرل ویڈیو: میرب علی کا ردعمل اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی پرانی ویڈیو وائرل ہونے پر میرب علی کی پراسرار انسٹاگرام اسٹوری نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ تفصیلات اور تجزیہ جانئے۔

ایران جوہری مذاکرات: جنیوا میں جاری کشیدگی، امریکہ اور تہران کا نیا تنازعہ

ایران جوہری مذاکرات جنیوا میں فیصلہ کن موڑ پر۔ امریکہ اور تہران کے درمیان ایٹمی پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پر تفصیلی تجزیہ پڑھیے۔

سورج گرہن 17 فروری 2026: انٹارکٹیکا میں آگ کا چھلا اور دنیا بھر پر اثرات

سورج گرہن 17 فروری 2026 کا یہ فلکیاتی واقعہ رواں سال کا پہلا اور سب سے اہم گرہن ہے، جو نہ صرف سائنسی حلقوں میں بلکہ عام عوام میں بھی بے پناہ تجسس کا باعث بنا ہوا ہے۔ یہ ایک حلقہ نما سورج گرہن (Annular Solar Eclipse) ہوگا، جسے عام زبان میں ‘آگ کا چھلا’ یا ‘رنگ آف فائر’ بھی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ گرہن بنیادی طور پر دنیا کے دور دراز اور غیر آباد علاقوں میں مکمل صورت میں نظر آئے گا، لیکن اس کی سائنسی اہمیت مسلمہ ہے۔ آج کی اس تفصیلی رپورٹ میں ہم سورج گرہن 17 فروری 2026 کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے، جس میں اس کے اوقات، دکھائی دینے والے مقامات، اور پاکستان پر اس کے ممکنہ اثرات شامل ہیں۔

سورج گرہن 17 فروری 2026 کی اہمیت اور نوعیت

فلکیاتی اعتبار سے 17 فروری کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس روز چاند زمین اور سورج کے درمیان سے گزرے گا، لیکن چونکہ چاند اپنے مدار میں زمین سے قدرے دور ہوگا (Apogee)، اس لیے یہ سورج کی ڈسک کو مکمل طور پر چھپانے سے قاصر رہے گا۔ نتیجے کے طور پر، سورج کا بیرونی کنارہ ایک روشن چھلے کی صورت میں چاند کے گرد چمکتا رہے گا، جسے فلکیاتی اصطلاح میں ‘اینولر ایکلپس’ یا حلقہ نما گرہن کہا جاتا ہے۔ یہ نظارہ انتہائی مسحور کن ہوتا ہے اور قدرت کے شاہکار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بین الاقوامی خلائی ایجنسیوں نے اس واقعے کا مشاہدہ کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں تاکہ سورج کے کورونا اور کروموسفیر کے بارے میں مزید ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکے۔

حلقہ نما سورج گرہن (Annular Solar Eclipse) کیا ہوتا ہے؟

سورج گرہن کی مختلف اقسام ہوتی ہیں، جن میں مکمل سورج گرہن، جزوی سورج گرہن اور حلقہ نما سورج گرہن شامل ہیں۔ 17 فروری 2026 کو ہونے والا گرہن ‘حلقہ نما’ ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب چاند زمین سے اپنے مدار میں سب سے زیادہ فاصلے پر ہوتا ہے۔ اس دوری کی وجہ سے زمین سے دیکھنے پر چاند کا حجم سورج کے حجم سے چھوٹا نظر آتا ہے۔ جب یہ چھوٹا چاند سورج کے بالکل سامنے آتا ہے، تو یہ سورج کے مرکزی حصے کو ڈھانپ لیتا ہے لیکن کناروں کو نہیں چھپا پاتا۔ اس کے نتیجے میں سورج ایک سنہری کنگن یا انگوٹھی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ سائنسدانوں کے لیے یہ وقت انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ وہ اس دوران سورج کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لے سکتے ہیں۔

یہ سورج گرہن دنیا کے کن ممالک میں نظر آئے گا؟

فلکیاتی نقشوں کے مطابق، اس گرہن کا سب سے بہترین نظارہ انٹارکٹیکا (قطب جنوبی) کے برفانی براعظم میں ہوگا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ‘آگ کا چھلا’ مکمل شان و شوکت سے دکھائی دے گا۔ تاہم، دنیا کے دیگر حصے بھی اس فلکیاتی تماشے سے مکمل طور پر محروم نہیں رہیں گے۔

انٹارکٹیکا: فلکیاتی مشاہدے کا مرکز

اس گرہن کا مرکز انٹارکٹیکا کا علاقہ ہے۔ وہاں موجود سائنسی تحقیقی مراکز کے سائنسدان اس نایاب موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ چونکہ انٹارکٹیکا میں انسانی آبادی نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے عام سیاحوں کے لیے اس کا مشاہدہ کرنا تقریبا ناممکن ہے، سوائے ان کے جو خصوصی فلکیاتی کروز شپ کے ذریعے وہاں پہنچیں گے۔

افریقہ اور جنوبی امریکہ میں جزوی گرہن

انٹارکٹیکا کے علاوہ، جنوبی نصف کرہ کے کچھ دیگر ممالک میں یہ گرہن جزوی طور پر دیکھا جا سکے گا۔ ان میں ارجنٹائن کا جنوبی حصہ، چلی، اور جنوبی افریقہ کے کچھ ساحلی علاقے شامل ہیں۔ یہاں کے رہائشی سورج کو جزوی طور پر کٹا ہوا دیکھ سکیں گے، جیسے کسی نے سیب کا ایک ٹکڑا کاٹ لیا ہو۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے انتہائی جنوبی حصوں میں بھی اس کے ہلکے اثرات نظر آ سکتے ہیں۔

کیا سورج گرہن 17 فروری 2026 پاکستان میں نظر آئے گا؟

پاکستانی عوام اور فلکیات کے شوقین افراد کے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ کیا وہ اس تاریخی واقعے کا مشاہدہ کر سکیں گے یا نہیں۔ سائنسی حساب کتاب اور جغرافیائی محل وقوع کے مطابق، سورج گرہن 17 فروری 2026 پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب یہ گرہن انٹارکٹیکا اور جنوبی نصف کرہ میں رونما ہو رہا ہوگا، اس وقت پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک میں رات ہوگی یا سورج غروب ہو چکا ہوگا۔ پاکستان شمالی نصف کرہ میں واقع ہے، اور اس گرہن کا سایہ زمین کے انتہائی جنوبی حصے پر پڑے گا۔ لہذا، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اس گرہن کا مشاہدہ براہ راست ممکن نہیں ہوگا۔ البتہ، شوقین حضرات انٹرنیٹ اور خلائی اداروں کی لائیو نشریات کے ذریعے اس نظارے کو دیکھ سکیں گے۔

سورج گرہن کے اوقات اور دورانیہ (عالمی معیاری وقت)

کسی بھی فلکیاتی واقعے کا درست وقت جاننا ضروری ہوتا ہے۔ عالمی معیاری وقت (UTC) کے مطابق اس گرہن کے مختلف مراحل درج ذیل ہوں گے۔ یاد رہے کہ پاکستان کا معیاری وقت UTC سے 5 گھنٹے آگے ہے۔

مرحلہ وقت (UTC) تفصیلات
جزوی گرہن کا آغاز 09:50 چاند کا سایہ زمین کو چھونا شروع کرے گا۔
مکمل حلقہ نما گرہن کا آغاز 11:15 سورج مکمل طور پر چھلے کی شکل اختیار کر لے گا۔
گرہن کا نقطہ عروج 12:12 گرہن اپنے انتہائی عروج پر ہوگا۔
حلقہ نما گرہن کا اختتام 13:10 آگ کا چھلا ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔
جزوی گرہن کا اختتام 14:35 چاند کا سایہ زمین سے مکمل طور پر ہٹ جائے گا۔

ماہرین فلکیات اور ناسا کی پیشین گوئیاں

امریکی خلائی ایجنسی ناسا اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے اس گرہن کے لیے خصوصی پیشین گوئیاں کی ہیں۔ ان کے مطابق، یہ گرہن شمسی طوفانوں اور سورج کی مقناطیسی سرگرمیوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ناسا نے اپنی ویب سائٹ پر اس گرہن کے راستے کا تفصیلی نقشہ جاری کیا ہے۔ مزید معلومات کے لیے آپ ناسا کی ایکلپس ویب سائٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے سالوں میں ایسے گرہن مزید اہمیت اختیار کر جائیں گے کیونکہ خلائی موسم (Space Weather) ہماری سیٹلائٹ کمیونیکیشن کو متاثر کر سکتا ہے۔

سورج گرہن کے دوران صحت اور آنکھوں کی حفاظت

سورج گرہن، چاہے وہ مکمل ہو، جزوی ہو یا حلقہ نما، اسے ننگی آنکھ سے دیکھنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں آنکھ کے ریٹینا کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہیں، جسے ‘سولر ریٹینوپیتھی’ کہا جاتا ہے۔

  • حفاظتی عینک: گرہن کو دیکھنے کے لیے ہمیشہ آئی ایس او (ISO 12312-2) سے منظور شدہ خصوصی عینک استعمال کریں۔ عام دھوپ کے چشمے ہرگز استعمال نہ کریں۔
  • کیمرہ اور دوربین: کیمرے، دوربین یا ٹیلی سکوپ کے لینز پر بھی خصوصی سولر فلٹر لگانا ضروری ہے، ورنہ یہ آلات بھی خراب ہو سکتے ہیں اور آنکھوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
  • بچوں کی حفاظت: خاص طور پر بچوں کو اس دوران سورج کی طرف براہ راست دیکھنے سے منع کریں اور ان کی نگرانی کریں۔

سورج گرہن کے بارے میں توہمات اور سائنسی حقیقت

برصغیر پاک و ہند سمیت دنیا کے کئی ممالک میں سورج گرہن سے متعلق مختلف توہمات پائے جاتے ہیں۔ قدیم زمانے میں لوگ اسے کسی افتاد یا بادشاہ کی موت کی نشانی سمجھتے تھے۔ تاہم، جدید سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ محض ایک قدرتی فلکیاتی عمل ہے جو نظام شمسی میں سیاروں کی گردش کا نتیجہ ہے۔

حاملہ خواتین اور سورج گرہن: ایک جائزہ

ہمارے معاشرے میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ سورج گرہن کے دوران حاملہ خواتین کو کوئی کام نہیں کرنا چاہیے یا چھری کانٹے کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، ورنہ بچے پر اثر پڑ سکتا ہے۔ میڈیکل سائنس اور دین اسلام میں اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ گرہن کی شعاعوں کا ماں کے پیٹ میں موجود بچے پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔ یہ محض فرسودہ خیالات ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلام میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ سورج اور چاند گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اور ان کا کسی کی موت یا زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس موقع پر نمازِ کسوف ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

مستقبل قریب میں ہونے والے دیگر فلکیاتی واقعات

سال 2026 فلکیاتی اعتبار سے کافی مصروف سال رہے گا۔ 17 فروری کے سورج گرہن کے بعد، اسی سال اگست میں ایک مکمل سورج گرہن بھی متوقع ہے جو یورپ کے کچھ حصوں میں نظر آئے گا۔ اس کے علاوہ متعدد چاند گرہن بھی اس سال کے کیلنڈر کا حصہ ہیں۔ فلکیات کے طلباء اور محققین کے لیے یہ سال ڈیٹا اکٹھا کرنے اور کائنات کے اسرار و رموز کو سمجھنے کے لیے بہترین مواقع فراہم کرے گا۔

خلاصہ اور حتمی تجزیہ

مختصر یہ کہ سورج گرہن 17 فروری 2026 قدرت کا ایک عظیم الشان نظارہ ہے جو بنیادی طور پر انٹارکٹیکا اور جنوبی نصف کرہ کے سمندروں میں دیکھا جائے گا۔ اگرچہ پاکستان میں اس کا نظارہ ممکن نہیں ہوگا، لیکن عالمی میڈیا اور سائنسی اداروں کی بدولت ہم گھر بیٹھے اس سے مستفید ہو سکیں گے۔ یہ واقعہ ہمیں کائنات کی وسعت اور نظام شمسی کی باریک بینیوں پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ توہمات پر یقین کرنے کے بجائے ہمیں سائنسی حقائق کو اپنانا چاہیے اور اللہ کی قدرت کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔ فلکیاتی سائنس میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ تاریخ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

spot_imgspot_img